خطبات محمود (جلد 17) — Page 496
خطبات محمود ۴۹۶ سال ۱۹۳۶۔معلوم ہوا کہ شہیدوں والا انعام لینے کیلئے بھی انسان کو اپنے پاس سے کچھ دینا ہی پڑتا ہے یعنی اپنی جان دینی پڑتی ہے تب رضائے الہی حاصل ہوتی ہے۔آگے فرمایاؤ الصَّلِحِینَ۔صالح کے معنے نیک کے ہیں۔صالحین والا انعام نیکی کی توفیق کامل جانا ہوا۔قرآن مجید نے نیک کام یہ نہیں بتلائے کہ ہم کو دنیا کے لوگوں کی نظروں میں عزت مل جائے ، لوگ ہم کو گالیاں نہ دیں ، لوگ ہماری بات سنیں بلکہ اللہ تعالیٰ تو نیک اُن لوگوں کو قرار دیتا ہے جو مِمَّا رَزَقْنهُمْ يُنْفِقُونَ 2 پر عمل کرنے والے ، خدمت خلق کرنے والے ، نماز ، روزہ ، زکوۃ کے پابند اور غرباء مساکین کی مدد کرنے والے ہوں۔پس یہی دعا ہے جو ہم سے منگوائی گئی ہے اور یہی انعام ہے جس کے مانگنے کا ہم کو حکم دیا گیا ہے یعنی یہ کہ ہم کو نیکیوں کے کرنے کی توفیق مل جائے جو انبیاء، صدیقین اور صالحین کرتے رہے۔انبیا ء خدا تعالیٰ کا پیغام پہنچانے کیلئے اپنا سب کچھ قربان کر دیتے ہیں۔پس جو انبیاء کے انعامات کا طالب ہے یقیناً اس کو تکالیف اور مصائب برداشت کرنی پڑیں گی۔اسی طرح صدیق اُس کو کہتے ہیں جو نبی کے نقش قدم پر چلے اور نبی کی طرح خدا تعالیٰ کا پیغام لوگوں تک پہنچائے تو صدیقوں والے انعام کے طالبوں کو بھی انبیاء کی طرح تکالیف اُٹھانی اور قربانیاں کرنی پڑیں گی۔شہید اُس کو کہتے ہیں جو خدا کی راہ میں اپنی جان دے۔پس وہ بھی کچھ دیتا ہی ہے یعنی لیتا نہیں۔اسی طرح صالح وہ ہے جو احکام الہیہ پر عمل کرے نہ کہ جاگیر دار ہو یا کسی مجلس کا پریذیڈنٹ یا مالدار ہو بلکہ قرآن مجید کے نزدیک نیک وہ ہے جولوگوں کی خبر گیری کرے۔ذاتی بڑائی کا اُس کو خیال نہ ہو اور خدمت خلق پر اس نے کمر باندھ رکھی ہو۔ان تمام باتوں کے بعد انسان کو ملتا کیا ہے۔فرمایا ايَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ ا - یعنی یہ کہ خواہ نبوت کے ذریعہ سے جستجو کرو خواہ صدیقیت اور شہادت اور صالحیت کے ذریعہ سے ہر رنگ میں تمہاری جستجو عبودیت کیلئے ہونی چاہئے یعنی عبودیت کی چادر کا مل جانا ہی حقیقی انعام ہے۔قرآن مجید سے معلوم ہوتا ہے عبودیت کی چادر کے مل جانے کے بعد انسان کو دنیاوی انعام بھی مل جاتے ہیں مگر وہ ضمنی انعام ہیں اصل نہیں اصل تو صرف عبودیت کا حصول ہے۔حکومت کا مل جانا یا عزت کا حاصل ہو جانا تو ضمنی اور مقصود اشیاء ہیں۔