خطبات محمود (جلد 17) — Page 41
خطبات محمود ۴۱ سال ۱۹۳۶ء دوست اس سال شامل نہیں ہو سکتے تھے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اس سال بعض اُن دوستوں نے جو جماعت میں نئے شامل ہوئے ہیں تحریک میں حصہ لیا ہے اور بعض نے گزشتہ سال کی نسبت ا۔چندوں کو بڑھا دیا ہے اس بڑھوتی نیز نئے شامل ہونے والوں نے باوجود اس کے کہ کئی دوست شامل نہ ہو سکے آٹھ فیصدی کی زیادتی کر دی ہے۔اگر باقی لوگ بھی شامل ہو سکتے تو اُمید ہے کہ یہ رقم ایک لاکھ تمیں چالیس ہزار تک پہنچ جاتی۔جیسا کہ میں نے پہلے بھی کئی بار بیان کیا ہے کہ میں سمجھتا ہوں کہ موجودہ حالات اور بعض مجبوریوں کی وجہ سے ضروری ہے کہ ہمارا ایک مستقل ریز رو فنڈ ہو جس کی آمدنی سے مستقل اخراجات چلائے جائیں اور ہنگامی کاموں کیلئے چندہ ہو۔اخلاقی لحاظ سے بھی یعنی جماعت کی اخلاقی حالت کو محفوظ رکھنے نیز کام کی وسعت کیلئے بھی ضروری ہے کہ ایک مستقل ریز روفنڈ قائم کیا جائے۔صدر انجمن احمدیہ کی آمد کا بیشتر حصہ تنخواہوں میں صرف ہو جاتا ہے اور اس وجہ سے ہنگامی کاموں میں رُکاوٹ پیدا ہوتی ہے نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ سلسلہ کے اموال سے اتنا فائدہ نہیں اُٹھایا جا سکتا جتنا اُٹھایا جانا چاہئے حتی کہ بعض دفعہ ہمارے مبلغ اس لئے یہاں بیٹھے رہتے ہیں کہ باہر جانے کیلئے کرایہ نہیں ہوتا۔پس کام چلانے کیلئے ضروری ہے کہ مستقل عملہ کے اخراجات کیلئے تی مستقل آمدنی کے ذرائع ہوں۔اس لئے میری تجویز ہے کہ ایک ریز رو فنڈ قائم کیا جائے اور تحریک جدید کے ماتحت جو کام جاری کئے گئے ہیں ان کے مستقل اخراجات کیلئے مستقل آمدنی کے ذرائع پیدا کرنے کیلئے میں صدر انجمن احمدیہ کے نام پر بعض جائدادیں خرید رہا ہوں تا مستقل کاموں کا بار چندوں پر نہ پڑے اور جماعت کے چندے صرف ہنگامی کاموں پر خرچ ہوں۔مثلاً لٹریچر، اشاعتِ دین اور جلسے وغیرہ اس کیلئے گو بڑی جدوجہد کی ضرورت ہے مگر جب کام کو چلا یا جائے تو میں سمجھتا ہوں بعض ابتدائی دقتوں کے بعد یہ کچھ مشکل نہیں رہ جاتا۔اگر آج تک مالی حالت کا اس رنگ میں انتظام کیا جاتا کہ مستقل اخراجات مستقل آمدنی سے ہوتے تو ہم ہندوستان میں اس قدر عظیم الشان تغیر پیدا کر سکتے تھے کہ جس کا بیسواں بلکہ سینکڑواں حصہ بھی اب تک نہیں کر سکے اور اس کے علاوہ وہ اعتراضات بھی نہ ہو سکتے جو بعض کمزور طبائع اور منافقین کے دلوں میں پیدا ہوتے ہیں۔بعض لوگوں کو یہ خیال تو نہیں آتا کہ مرکز کے بغیر کام نہیں چل سکتا وہ