خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 407 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 407

خطبات محمود ۴۰۷ سال ۱۹۳۶ء آئی ہیں یا نہیں آئیں۔لیکن اگر متحرک تصاویر والا آلہ ہو تو اس کے ذریعہ چلتا ہوا آدمی بھی نظر آ سکتا ہے، لاٹھی مارتا بھی دکھائی دے سکتا ہے، لاٹھی سے دھکیلتا ہوا بھی نظر آسکتا ہے، دوسروں کو فساد کیلئے اس رنگ میں انگیخت کرتا ہوا بھی نظر آ سکتا ہے کہ میاں آگے بڑھو اور فساد کرو۔پس ایک تو جلد سے جلد اس قسم کا آلہ لے لو اور دوسرے آئندہ کیلئے اپنے دلوں میں یہ عہد کرو کہ تم پہلے خدا اور اُس کے اور رسول کی عزت قائم کرو گے اپنی عزتوں کے قائم کرنے کا خیال تمہیں بعد میں آئے گا۔دیکھو! ایک بہت بڑا کام ہمارے سامنے ہے ہم نے دنیا میں پھر اسلام قائم کرنا ہے۔وہ اسلام جسے آج ہر شان و شوکت سے محروم کر دیا گیا ، وہ اسلام جس کے ماننے والوں کی آواز۔مشرق سے لے کر مغرب تک تمام کرہ ارض کا نپ جاتا تھا ، آج اس اسلام پر ایمان لانے والے دنیا میں ذلیل ترین وجود سمجھے جاتے ہیں۔سکھوں کی تعداد کتنی قلیل ہے تمیں لاکھ سے وہ زیادہ نہیں اس کے مقابلہ میں ہندوستان کے مسلمانوں کی تعداد سات کروڑ ہے مگر تمیں لاکھ سکھوں کی آواز کے مقابلہ میں سات کروڑ مسلمانوں کی آواز کوئی حقیقت نہیں رکھتی حالانکہ ایک وقت وہ تھا کہ چند سو مسلمانوں کے سامنے تمام دنیا دم مارنے کی جرات نہ کرتی تھی۔ہمیں بھی خدا تعالیٰ نے وہ رُعب دیا ہے جو ہماری تعداد سے بہت زیادہ ہے اور ہماری دنیا میں مخالفت اسی لئے ہے کہ لوگ سمجھتے ہیں ان سے لوگ بہت ڈرتے ہیں اور یہ دنیا میں ایک دن پھیل کر رہیں گے مگر ہم اپنے رُعب سے وہ فائدہ نہیں اُٹھاتے جو صحابہ نے اُٹھایا۔وہ ایک وجود پر ایمان لے آئے تھے اور اس کے بعد اس کے ہونٹوں کی طرف دیکھتے رہتے تھے کہ ان سے کیا آواز نکلتی ہے مگر ہم تو ابھی منافقوں میں ہی الجھ رہے ہیں۔ایک منافق کی وجہ سے ۱۹۳۴ء میں فتنہ اٹھا اور دوسرے منافق کی وجہ سے ۱۹۳۶ء میں فتنہ اُٹھنے لگا ہے مگر یا درکھو اگر تقویٰ سے آپ لوگوں نے کام لیا اور میری اطاعت اور فرمانبرداری میں کام کیا تو ایک کیا دنیا بھر کی حکومتیں مل کر بھی آپ کو کوئی نقصان نہیں پہنچاسکتیں۔تم خدا کے ہو جاؤ اور اس کے احکام کو مانو پھر خدا تعالیٰ تمہارا ہو جائے گا اور اُس کا حکم تمہاری تائید میں ہو جائے گا اور کوئی نہیں جو خدا تعالیٰ کے حکم کو توڑ سکے۔جب خدا د نیا میں ایک ہوا چلا دے تو پھر دنیا کی کے دل خود بخود مرعوب ہونے لگتے ہیں۔جیسے دریا کے کنارے پر کھڑا ہونے والا شخص اطمینان سے کھڑا ہوتا ہے کہ اچانک دریا کے پانی کی وجہ سے بھر بھری زمین دریا میں گر جاتی ہے اور وہ ی