خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 282 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 282

خطبات محمود ۲۸۲ سال ۱۹۳۶ء کہ ملکہ وکٹوریہ یہ کھاتی ہوگی۔یہ باتیں سن سن کر وہ زمیندار تنگ آ گیا کہنے لگا۔ہوں ! ہوں ! تم سب بیوقوف ہو بھلا یہ بھی کوئی کھانے کی چیزیں ہیں۔اصل بات میں تمہیں بتا تا ہوں۔ملکہ نے دو کو ٹھڑیاں گڑ سے بھر رکھی ہوں گی وہ ٹہلتی ٹہلتی اُدھر جاتی ہوگی تو گڑ کی بھیلی منہ میں ڈال لیتی ہوگی تھی پھر دوسری طرف جاتی ہوگی تو دوسری کوٹھڑی سے گڑ کی بھیلی نکال کر منہ میں ڈال لیتی ہو گی۔وہ کی چونکہ گڑ کھانے کا عادی تھا اس لئے اس نے سمجھ لیا کہ ملکہ بھی گڑہی کھاتی ہوگی۔اسی طرح چونکہ احرار کو خود لوگوں سے چندے وصول کر کے کھانے کی عادت ہے اس لئے وہ سمجھ لیتے ہیں کہ ہمارے ہاں بھی یہی کچھ ہوتا ہوگا۔چنانچہ پندرہ بیس سال کی بات ہے کہ ایک دفعہ ایک اخبار میں چھپا تھا کہ قادیان میں جب لوگوں کے منی آرڈر پہنچتے ہیں تو سب لوگ مسجد میں جمع ہو جاتے ہیں اور شور مچانا شروع کی کر دیتے ہیں کہ لانا ہمارا حصہ کہاں ہے؟ ہر ایک کا روپیہ میں کچھ حصہ مقرر ہوتا ہے۔مثلاً میرا دو آنے فی روپیہ حصہ ہوا، مولوی شیر علی صاحب کا روپیہ میں سے دو پیسے، مفتی محمد صادق صاحب کا دو پیسے، مولوی غلام رسول راجیکی صاحب کے دو پیسے، مولوی عبدالرحیم صاحب درد کے دو پیسے ہوئے۔جس وقت منی آرڈر پہنچتے ہیں سب دوڑ پڑتے ہیں اور مسجد میں اکٹھے ہو کر روپیہ کو آپس میں بانٹ کر اپنے اپنے گھر لے جاتے ہیں۔اب ہم تو اپنے دل میں ان خبروں کو پڑھ کر یا تو ہنس دیتے ہیں یا ہمیں درد پیدا ہوتا ہے که انسان جب شرافت سے عاری ہو جاتا ہے تو کس طرح گتے اور سؤر جتنی بھی نیکی اس میں باقی تی نہیں رہتی۔گتے اور سور میں پھر بھی کچھ حیا ہوتی ہے مگر ایسے صریح جھوٹ بولنے والوں میں تو اتنی بھی حیا نہیں رہی جتنے گئے اور سؤر میں پائی جاتی ہے۔پھر کبھی حیرت آجاتی ہے کہ کیا اللہ تعالیٰ کا مانیت پر کوئی ایسا غضب نازل ہونے والا ہے کہ یہ کمبخت صفحہ ہستی سے بالکل مٹادیا جائے گا اور اس کا سچائی سے کوئی واسطہ نہ رہے گا۔پھر تھوڑے ہی دن ہوئے احرار کے ایک اخبار میں ایک اور خبر شائع ہوئی اور لطیفہ یہ ہے کہ ایک ہی اخبار میں ایک ہی صفحہ پر دو متضاد خبریں درج کر دی گئیں۔ان دونوں میں ذکر تھا کہ چوہدری ظفر اللہ خان صاحب قادیان میں آئے اور میری اُن سے گفتگو ہوئی۔ایک خبر میں تو اس