خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 234 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 234

خطبات محمود ۲۳۴ سال ۱۹۳۶ پڑے۔اپیل کی اجازت دینے کے معنے ہی یہ ہیں کہ عدالتوں کا فیصلہ غلط بھی ہو سکتا ہے۔اگر جج کیلئے غلطی کا امکان نہ ہوتا تو اپیل کے کوئی معنے ہی نہ تھے۔لیکن عقلاً یا انصافاً بھی اگر کوئی عدالت ایسا فیصلہ کرے جو دانستہ یا نادانستہ طور پر مدعی اور مدعا علیہ کو چھوڑ کر ایک ایسی جماعت یا مذہب پر اثر انداز ہو جو تبلیغی ہو تو اسے کیا کرنا چاہئے۔یہ سوال ہے جس کا جواب میں حکومت سے دریافت کرنا چاہتا ہوں۔حکومت جب ہمیں کہتی ہے کہ مت بولو تو اسے یہ بھی بتانا چاہئے کہ ہم کیا کریں۔وہ بتادے کہ تمہارے لئے فلاں رستہ کھلا ہے یا یہی کہہ دے کہ کوئی راستہ کھلا نہیں مگر تم پھر بھی صبر کرو۔میں اس سے پوچھتا ہوں کہ وہ کی ان دونوں باتوں میں سے ہمیں کیا کہتی ہے۔دو ہی باتیں ہیں۔یا تو رستہ بتا دے یا یہ کہہ دے کہ خواہ تم کو کس قدر نقصان پہنچے خاموش رہو۔جو بھی جواب وہ دینا چاہتی ہے دے تا کہ ہم اس پر غور کریں لیکن صبر کرنے کے متعلق اس کے منہ سے ایک لفظ بھی نہیں نکل سکتا کیونکہ یہ سخت نا معقول کی بات ہے کہ کسی سے یہ مطالبہ کیا جائے کہ خواہ تمہارے مذہب پر کس قد رسخت حملہ ہوا ہو، خواہ تمہاری تبلیغ رک گئی ہو تم خاموش رہو۔پس اس کیلئے ایک ہی جواب ممکن ہے جو یہ ہے کہ وہ ہمیں بتائے کہ تمہارے لئے قانون نے فلاں رستہ کھلا چھوڑا ہے۔اگر وہ کوئی ایسا رستہ بتائے جس کے ذریعہ سے خود جواب دیئے بغیر عدالت کے ذریعہ سے فیصلہ کرایا جا سکتا ہو۔تو میں نیشنل لیگ کو مجبور کروں گا کہ اُسی رستہ کو اختیار کرے اور اگر کوئی ایسا رستہ نہیں تو حکومت بتا دے کہ ہم کیا کریں۔واقعہ یہ کہ ہمیں صبر کرنے کا مشورہ حکومت نہیں دے سکتی۔یہ فیصلہ ایک لاکھ کی تعداد میں شائع کیا ہے جا چکا ہے۔اردو انگریزی میں ہندستان ، انگلستان اور بعض دوسرے غیر ممالک مثلاً افریقہ اور کی اسلامی ممالک میں بھی بکثرت تقسیم کیا گیا ممکن ہے اور بھی بعض ایسے علاقوں میں تقسیم کیا گیا ہو جن کی کے نام ہم کو معلوم نہیں۔انگلستان کے متعلق تو خود احرار کے ایک اخبار میں لکھا تھا کہ جب مسٹر گا بالی وہاں گئے تو انہوں نے اس کی ایک کاپی وزیر ہند کو دی تھی۔اب فرض کرو ہم کسی کے پاس تبلیغ کیلئے جاتے ہیں اور وہ آگے سے پوچھتا ہے کہ کیا تم مسلمان ہو اور اقرار کرنے کی صورت میں دریافت کرتا ہے کہ کیا شراب اسلام میں حلال ہے۔جب ہم کہتے ہیں کہ نہیں حرام ہے۔تو وہ کہتا ہے کہ تمہارے نبی اور مامور بھی تو شراب پیتے تھے۔جب ہم کہتے ہیں کہ یہ درست نہیں تو وہ آگے