خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 18 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 18

خطبات محمود ۱۸ سال ۱۹۳۶ء تک فخر کیا جاتا ہے۔اب وہی خزانہ جو صحابہ کو رسول کریم عہ سے ملا جماعت احمدیہ کو حضرت کی مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے توسط سے پھر بطور ورثہ ملا ہے۔دنیا کچھ باتیں بنائے ، کوئی تی اعتراض کرے یہ حقیقت ہے کہ تمام دنیا تمہاری میراث ہے اور خدا تعالیٰ نے تمہیں دی ہے۔اب یہ تمہارا کام ہے کہ ان جائز ذرائع سے جو خدا تعالیٰ نے مقرر کئے ہیں اسے حاصل کرو اور اس کے حاصل کرنے کا پہلا قدم یہی ہے کہ ہمارے نوجوان دنیا میں نکل جائیں، خود کمائیں اور کھائیں اور تبلیغ احمدیت بھی کرتے پھریں۔پس علاوہ اس تحریک کے کہ مبلغین کے طور پر نوجوان اپنے آپ کو وقف کریں، پیشہ وروں کے طور پر بھی ہمارے نو جوانوں کو باہر نکلنا چاہیئے اس میں ہزاروں بہتریاں ہوسکتی ہیں۔بسا اوقات کی انسان ایک ملک میں عزت نہیں پاتا مگر دوسرے ملک میں عزت پا جاتا ہے۔ہندوستان کے بڑے بڑے نواب ایران اور افغانستان کے معمولی معمولی آدمی تھے جنہیں اپنے ملکوں میں عزت نہ ملی تو وہ ہندوستان آگئے اور یہاں آکر نواب بن گئے بلکہ اب تک ان کی نسلیں نوابی کر رہی ہیں۔وہ جو اپنے آپ کو اب بنی نوع انسان سے کچھ علیحدہ وجود سمجھتے ہیں خانہ بدوشوں کی طرح ایران اور عرب سے ہندوستان آئے یہاں آکر انہیں کوئی موقع مل گیا اور وہ بڑے بڑے عہدوں پر پہنچ گئے۔بنگال کے لوگوں کو انگریز فوج میں داخل نہیں کیا کرتے کیونکہ وہ بُز دل سمجھے جاتے ہیں لیکن ساؤتھ امریکہ میں ایک بنگالی جرنیل ہے معلوم نہیں وہ اب زندہ ہے یا نہیں لیکن آج سے دس سال پہلے وہ زندہ تھا۔پس یہاں تو بنگالی سپاہی کے طور بھی نہیں لئے جاتے لیکن جنوبی امریکہ میں پہنچ کر ایک بنگالی جرنیل بن گیا۔میں اس عام قاعدہ کو تسلیم کرتا ہوں کہ جس شخص کی لیاقت کے ظاہر ہونے کا ایک جگہ موقع نہ ملے وہ دوسری جگہ بھی لیاقت ظاہر نہیں کرسکتا لیکن یہ ایک گلی قاعدہ نہیں۔بعض دفعہ ایک چیز ایک جگہ فٹ نہیں آتی اور رڈی سمجھ کر پھینک دی جاتی ہے مگر دوسری جگہ فٹ آ جاتی ہے ہے۔ایک اینٹ ایک جگہ معمار رکھتا ہے تو وہ پوری نہیں اُترتی اور معمارا سے اُٹھا کر پھینک دیتا ہے لیکن تھوڑی ہی دیر کے بعد ایک اور جگہ نکل آتی ہے جہاں اُس اینٹ کی ضرورت ہوتی ہے بلکہ اُس کے سوا کوئی اور اینٹ لگ ہی نہیں سکتی تب وہ اُس اینٹ کو جسے ردی سمجھ کر پھینک چکا ہوتا ہے پھر اُٹھاتا اور اُس جگہ لگا دیتا ہے اور اس طرح اُس کی عزت قائم ہو جاتی ہے۔رسول کریم ہے۔