خطبات محمود (جلد 17) — Page 167
خطبات محمود سال ۱۹۳۶ء واپس بلا لینی پڑیں۔اسی زمانہ میں ترک وہ ترک جن کا ملک تقسیم ہو چکا تھا ، وہ ترک جن کا بادشاہ کی قیدیوں کی طرح تھا، وہ ترک جن کے تو پخانے اتحادیوں کے قبضہ میں تھے ، وہ شکست خوردہ ترک اپنے سینے تان کر انگریزی اور فرانسیسی فوجوں کے سامنے آکھڑے ہوئے اور آخر لارڈ کرزن کے ذریعہ ایک معاہدہ ہونے کے بعد انگریزی فوجوں کو واپس آنا پڑا۔انگریز اُس وقت ساز و سامانی میں کمزور نہ تھے ، دولت میں کمزور نہ تھے لیکن انہیں نظر آ رہا تھا کہ آج چاروں طرف پھوٹ ہے اور ہمارا ساتھ دینے کیلئے کوئی تیار نہیں۔اُس زمانہ میں وہ ہندوستان جس میں تینتیس کروڑ کی آبادی کی ہے اس کے باشندوں میں ایک سرے سے لے کر دوسرے سرے تک حکومت انگریزی کے خلاف آگ لگ چکی تھی ، ہند و سوراجیہ کا مطالبہ کرتے تھے، مسلمان خلافت کا شور مچارہے تھے اور کوئی جماعت مِنْ حَيْثُ الْجَمَاعَت انگریزوں کے ساتھ نہ تھی ایسے خطرے کے وقت میں جب اپنے اور پرائے سب گھبرا رہے تھے سوائے جماعت احمدیہ کے اور کونسی جماعت تھی جس نے حَيْثُ الْجَمَاعَت انگریزی کا ساتھ دیا ؟ مجھے یاد ہے کہ جب رولٹ ایکٹ پر شور اُٹھا تو میں نے اپنی جماعت کے لوگوں کو ار در گردی کے دیہات میں بھیجا کہ وہ وہاں کے رؤساء اور بڑے بڑے لوگوں کو اکٹھا کر کے قادیان میں لائیں تا میں انہیں نصیحت کروں کہ وہ اس فتنہ وفساد میں حصہ نہ لیں۔بعض خود غرض لوگ ہم میں اس اور سکھوں میں ہمیشہ لڑائی رکھنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن بعض پُرانے اور بڈھے سکھ جو ہمارے خاندان کی پُرانی روایات اور ان کے اثر سے واقف تھے انہوں نے یہ نہ سمجھتے ہوئے کہ میں انہیں کیوں بلا رہا ہوں مجھے کہلا بھیجا کہ ہم ضرور آئیں گے اور اگر آپ اس موقع پر اپنے خاندان کی کی پرانی عظمت قائم کرنا چاہیں تو ہم آپ کا پورا ساتھ دیں گے۔اُس وقت انگریزوں کو ہندوستان سے نکالنے کا جذبہ اس قدر ترقی کر چکا تھا کہ قریب کے گاؤں ”ٹھیکری والا سے جو بالکل جاہل گاؤں ہے ایک کثیر تعداد پستولوں کی پکڑی گئی تھی کچھ لوگ وہاں پستولوں سے چاند ماری کی مشق بھی کیا کرتے تھے جب یہ رؤساء آئے اور میں نے مسجد میں جمع کر کے انہیں نصیحت کی کہ آپ کی ریزوں کے خلاف شورش میں حصہ نہ لیں تو وہ بھو کے بھیڑیے کی طرح ہمارے آدمیوں سے لڑتے تھے مگر ہم نے انہیں سمجھا سمجھا کر اور منتیں کر کے اس ارادہ سے انہیں باز رکھا اور علاقہ میں