خطبات محمود (جلد 17) — Page 111
خطبات محمود L سال ۱۹۳۶ء صداقت اور دیانت کی تلوار سے دنیا کو فتح کرو (فرموده ۶ / مارچ ۱۹۳۶ء) تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔بوجہ سر درد کے دورہ اور حرارت کے میں آج بہت مشکل سے خطبہ پڑھ سکتا ہوں لیکن کی میرے نفس نے یہ گوارہ نہیں کیا کہ میں آج خطبہ تک سے گریز کروں اس وجہ سے نہایت اختصار کے ساتھ جماعت کو اس امر کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ جیسا کہ میں نے گزشتہ سال بتایا تھا طاقت اور قوت کے مقابلہ کیلئے کوئی ہتھیار چاہئے اور ہتھیار بھی وہ جو دشمن کے پاس نہ ہو یا دشمن کے ہتھیار اس کے مقابلہ میں ادنیٰ ہوں۔شاعر بے شک اپنے معشوقوں کو بغیر ہتھیار کے لڑا لیتے ہیں مگر عملی دنیا میں ہتھیار کے بغیر کام نہیں چلتا۔شاعروں کا کہنا ہے کہ اُن کی دنیا خیالی ہوتی ہے جو چاہیں پاس سے بنالیں ان پر اعتراض کرنے والا کوئی نہیں بلکہ جو اعتراض کرے وہ جاہل سمجھا جاتا ہے۔اس کی کے متعلق کہا جاتا ہے کہ وہ ذوق علم وادب سے محروم ہے جو صداقت کو ان کے سامنے پیش کرتا ہے وہ ان کے نقطہ نگاہ سے جاہل ہوتا ہے۔ہمارے کسی شاعر نے کہا ہے کہ: اس سادگی یہ کون نہ مرجائے اے خدا لڑتے ہیں اور ہاتھ میں تلوار بھی نہیں اس شاعر کا معشوق بغیر ہتھیار کے جیت جاتا ہے۔ادب کے لحاظ سے اس شاعر کا پایہ بہت بلند ہے اور میں بچپن سے اس کا مداح ہوں مگر عملی دنیا میں اس کی کیا حقیقت ہے۔مجازی دا