خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 107 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 107

خطبات محمود ۱۰۷ سال ۱۹۳۶ء سلسلہ کے دشمن بالکل پاش پاش ہو جائیں گے خواہ وہ حکومت کے گل پُرزے ہوں اور خواہ میجارٹی اور اکثریت کے نمائندہ ہوں کیونکہ ہمارے خدا کے سامنے نہ حکومتیں کوئی حیثیت رکھتی ہیں نہ اکثریت کی نمائندگی کوئی حیثیت رکھتی ہے۔پس میں آپ تحریک جدید کے اُنیسویں مطالبہ کو پھر پیش کرتا ہوں اور جماعت کو توجہ دلاتا ہوں کہ ابھی وہ دن نہیں آئے کہ تم دشمن کے حملوں سے غافل ہو جاؤ اور دعاؤں کی طرف سے نظر ہٹا لو۔بے شک خدا تعالیٰ نے اس عرصہ میں بڑے بڑے نشان دکھائے ہیں مگر مخالفوں نے ان کی کی قدرنہیں کی کیونکہ نشان دو قسم کے ہوا کرتے ہیں۔بعض نشان معمولی ہوتے ہیں اور بعض پُر ہیبت اور پر جلال۔جس طرح چاند پہلے ہلال کی شکل میں ہوتا ہے اور پھر قمر اور پھر بدر کی صورت اختیار کر لیتا ہے اسی طرح بعض نشان ہلال سے مشابہہ ہوتے ہیں بعض قمر سے اور بعض بدر سے۔ہمیں کی خدا تعالیٰ نے چونکہ روحانی آنکھیں دی ہوئی ہیں اس لئے ہم نے ان نشانوں کو بھی دیکھا جو ابھی ہلال کی صورت میں ہیں لیکن دشمنوں نے ان نشانوں کو نہیں دیکھا کیونکہ ان نشانوں نے ہلال سے قمر کی صورت اختیار نہیں کی۔پس دشمن ابھی تک اپنی شرارت سے باز نہیں آیا۔خدا تعالیٰ نے شہید گنج کا مسئلہ بھی پیدا کیا اور احرار کی مسلمان دشمنی کے پردہ کو بالکل کھول کر رکھ دیا۔خدا تعالیٰ نے حکومت کے بعض اُن گل پرزوں کو بھی سبق دیئے جنہوں نے بلا وجہ احمد یہ جماعت کی تحقیر اور تذلیل اور اسے تکالیف میں مبتلاء کرنے کا شیوہ اختیار کیا ہوا تھا اور بعض کے متعلق ہمیں یقین ہے کہ انہیں آئندہ سبق مل جائے گا لیکن اب تک اصل حکومت نے ہماری شکایات کا کوئی ازالہ نہیں کیا اور نہ اشک شوئی کی کوئی کوشش کی ہے۔سلسلہ کی ہتک اسی طرح جاری ہے جس طرح پہلے جاری کی تھی۔گو بعض امور میں اصلاح بھی نظر آتی ہے اور میں اپنے خطبات میں ان کا ذکر کر چکا ہوں لیکن بعض امور میں نئی شرارتیں کی جارہی ہیں۔جیسے ڈاکخانہ کا رویہ ہے یا قانونی رنگ میں ہمیں نقصان پہنچانے کی کوشش کی جارہی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس فتنہ وفساد کی روح کی اصلاح نہیں ہوئی۔روح سے میری مراد آدمی نہیں بلکہ وہ جذبات ہیں جو بعض لوگوں کو ہماری جماعت کی مخالفت کیلئے اُکساتے ہیں اور میں سمجھتا ہوں کہ وہ روح ابھی تک مری نہیں گو ظاہری حالات میں کسی قد رتبدیلی ہوگئی ہے۔