خطبات محمود (جلد 17) — Page 9
خطبات محمود سال ۱۹۳۶ء دوسو سال۔ہماری جماعت اخلاقی جماعت ہے اور اخلاقی لحاظ سے میں عفو کوضروری سمجھتا ہوں اور شاید اسی خیال کے ماتحت ایسے افسروں میں سے ایک نے جس سے ہمیں بہت سی شکایات ہیں ایک شخص سے ذکر کیا ہے کہ وہ مذہبی لیڈر ہیں اور مجھے امید تھی کہ وہ ان باتوں کو بھول جائیں گے۔میں تسلیم کرتا ہوں کہ اس کا یہ مطالبہ جائز ہے اور اگر میں اسے پورا نہ کروں تو میں مجرم ہوں گا ، خدا کے سامنے بھی اور بندوں کے سامنے بھی۔لیکن عفو اور بیوقوفی کے مائین ایک حد فاصل ہے عفو کے معنی یہ ہیں کہ ایک شخص غلطی کرتا ہے اور پھر نادم ہے۔یا پھر اس غلطی کا اثر افراد پر ہے مگر بعض غلطیوں کا اثر اقوام پر پڑتا ہے بلکہ آئندہ نسلوں پر بھی پڑتا ہے اور ایسے امور میں عفو سے کام لینا بیوقوفی اور حماقت ہوتی ہے۔ہاں اگر ایسے لوگ معافی طلب کرتے اور ندامت کا اظہار کرتے تو ان کا یہ مطالبہ جائز ہوسکتا تھا اور ایسی صورت میں ہمارا طریق یہی ہے کہ اس بات کو چھوڑ دیتے ہیں۔اس کی تازہ مثال بھی موجود ہے۔حکومت پنجاب سے ایک غلطی ہوئی اور اُس نے اس کا اعتراف کر لیا۔اس کے بعد ہم نے پھر کبھی اسے اس رنگ میں نہیں دُہرایا اور نہ اب ہی میں اس کی طرف اشارہ کرتا ہوں۔ہم نے حکومت کے اعتراف کو قبول کر لیا اور اس بات کو دل سے نکال دیا۔اب میں بھی اس کا ذکر اس رنگ میں نہیں کر رہا ہوں کہ ہمیں اس کے متعلق حکومت سے شکوہ ہے۔ہاں باقی امور میں بھی ہم حکومت سے اسی شریفانہ طریق کی امید کرتے ہیں۔اس واقعہ کے بعد متواتر بعض افسروں نے ہم پر ظلم کیا ہے۔جماعت پر یہ سراسر جھوٹا الزام لگایا گیا کہ اس نے بعض جلسوں میں حکومت کے افسروں کو گالیاں دی اور حرامزادہ کہا حالانکہ ایسا ہر گز نہیں ہوا۔ہاں اگر کسی منافق سے خود بخود کہلوایا گیا ہو تو جماعت اس کی ذمہ دار نہیں ہوسکتی اور جماعت کی طرف اِسے منسوب کرنے والا ظالم ہے۔یہ جماعت پر اخلاقی حملہ ہے اور ایک مذہبی جماعت کیلئے نہایت اہم سوال ہے اور جب تک یہ الزام قائم ہے کہ ہم نے کسی کو حرامزادہ کہا یا ایسے شخص کی گالی کو پسند کر لیا ان لوگوں کے ساتھ جنہوں نے یہ الزام شائع کیا ہماری صلح ہر گز نہیں ہو سکتی۔اسی طرح جماعت پر یہ الزام لگایا کہ وہ حکومت سے بغاوت کے راستہ پر جا رہی ہے حالانکہ حکومت سے وفاداری ہم پر احمدیت کی رو سے فرض ہے۔اور اس الزام کے گویا یہ معنی ہیں