خطبات محمود (جلد 17) — Page 8
خطبات محمود Δ سال ۱۹۳۶ء جدھر سے بھی نکلو تمہاری توجہ مکہ کی طرف ہونی چاہئے ہے۔پس اس قاعدہ کے ماتحت تم کو بھی چاہئے کی کہ اس امر کا خیال رکھو کہ ان سلسلہ کے دشمنوں، ملک کے دشمنوں اور امن کے دشمنوں کی طاقت کو کی تو ڑا جائے۔دعاؤں کے ذریعہ سے بھی، لوگوں پر ان کی حقیقت کا انکشاف کر کے بھی اور ان کے مخالفوں سے تعاون کر کے بھی۔غرضیکہ جن ذرائع سے بھی ہو سکے ان کی طاقت کو تو ڑا جائے۔باقی رہی حکومت ، سو اس سے ہماری ایسی لڑائی تو نہ ہے اور نہ ہو سکتی ہے جیسی کانگرس کرتی ہے اور ہم مذہبی لحاظ سے بھی پابند ہیں کہ جس حد تک جماعت کے وقار کیلئے مضر نہ ہو حکومت سے تعاون کریں۔اس سے تعاون کی حد بندی تو ہوسکتی ہے مگر عدم تعاون کسی صورت میں نہیں ہوسکتا۔اور ی تعاون کی حد بھی وہی ہے جو حکومت خود قائم کر دے۔پہلے بھی حکومت سے غلطیاں ہوتی رہی ہیں مگر پھر ازالہ کی کوشش بھی اس کی طرف سے ہوتی رہی ہے لیکن گزشتہ سال بعض افسروں نے بالا رادہ بعض ایسی حرکات کی ہیں کہ جو سلسلہ کے وقار کو سخت نقصان پہنچانے والی ہیں اور اس کے ہمارے پاس ایسے یقینی ثبوت موجود ہیں کہ کسی کے کہنے سے بھی اس کو غلط نہیں سمجھ سکتے۔ممکن ہے زید یا بکر کو اس سے تعلق نہ ہو، ممکن ہے پنجاب گورنمنٹ اس سے بری ہو یا ضلع کے بعض حکام اس سے بری ہوں لیکن یہ کہ سب کے سب اس الزام سے بری ہیں یہ ایسی بات ہے جسے نہ میں تسلیم کرنے کو تیار ہوں اور نہ کوئی عقلمند۔ہمارے پاس ایسے یقینی ثبوت موجود ہیں کہ ان سے انکار کرنا بالکل ایسا ہی ہے جیسے کبوتر اپنی آنکھیں بند کر کے سمجھ لیتا ہے کہ اب بلی مجھ پر حملہ نہیں کرے گی۔ہمارا اپنا طریق یہ ہے کہ اگر ہم سے غلطی ہو جائے تو ہم اس کا اعتراف کر لیتے ہیں اور ہمارے ریکارڈ ظاہر کرتے ہیں کہ ہم نے کبھی اس میں تامل نہیں کیا۔حتی کہ احرار کے خلاف بھی اگر کوئی غلط بات شائع ہوئی تو ہم نے اس کی تردید کر دی اور ایسے ہی اخلاق کی ہم حکومت سے امید رکھتے ہیں کہ وہ اپنی غلطی کا اعتراف کر کے آئندہ کے لئے یقین دلائے کہ ایسا نہیں ہوگا۔حکومت کے بعض افسروں کی طرف سے جماعت کے اخلاق اور اس کی دیانت پر حملے کئے گئے ہیں اور حکومت نے اس کی تردید نہیں کی اس لئے فضا کی موجودہ خاموشی سے یہ مطلب ہرگز نہیں سمجھنا چاہئے کہ ان سب باتوں کا تصفیہ ہو چکا ہے۔ابھی تک کوئی تصفیہ نہیں ہوا اور نہ ہی اُس وقت تک ہوسکتا ہے جب تک ایسی حرکات کرنے والوں کو سزائیں نہ دی جائیں۔خواہ اس پر سو سال گزرجائیں ، خواہ