خطبات محمود (جلد 17) — Page 763
خطبات محمود سال ۱۹۳۶ میرے روکنے کے ہماری جماعت کے بعض دوستوں پر اس کا اب تک اثر ہے اور چوتھے پانچویں کوئی نہ کوئی دوست ایسا ملنے آجاتا ہے کہ وہ ادب سے جوتی اُتارنا شروع کر دیتا ہے۔بس میری اور اس کی کشتی شروع ہو جاتی ہے میں کہتا ہوں جوتی پہنو اور وہ جوتی اُتار رہا ہوتا ہے۔تو اسلام یہ چاہتا ہے کہ بنی نوع انسان میں برادرانہ تعلقات پیدا ہوں۔بے شک ایک بڑا بھائی ہو اور دوسرا چھوٹا لیکن بہر حال اخوت اور برادری ہوا اور اخوت ہی اسلام قائم کرنا چاہتا ہے۔غریب کو تم چھوٹا بھائی سمجھ لو اور امیر کو بڑا لیکن امیر اور غریب دونوں بھائی ہیں اور یہی روح ہے جو اسلام قائم کرنا چاہتا ہے ہے اور یہ ادب کے بھی منافی نہیں۔کیا چھوٹا بھائی اپنے بڑے بھائی کا ادب نہیں کرتا اور کیا بڑا بھائی اپنے چھوٹے بھائی کیلئے قربانیاں نہیں کرتا۔بے شک جب مسند پر بیٹھنے کا وقت آئے تو چھوٹا کی بھائی اپنے بڑے بھائی کو جگہ دے گا اور آپ ایک طرف بیٹھ جائے گا لیکن نوکروں کی طرح وہ جوتیوں میں نہیں کھڑا ہوگا یہی چیز ہے جس کو پھر اسلام دنیا میں قائم کرنا چاہتا ہے اور یہی دُنیوی ت ہے جب یہ نہ ہو اور لکیریں کھینچ دی جائیں کہ تم برہمن ہو، تم کھشتری ہو، تم شو در ہو اُس وقت محبت اور پیار نہیں رہتا اور جس کا داؤ چلتا ہے دوسرے کو ذلیل کر کے نکال دیتا ہے لیکن جب برادری قائم ہو جائے تو آپس کے تعلقات خراب نہیں ہو سکتے۔کوئی چھوٹا بھائی یہ کبھی نہیں کہتا کہ میں اپنے بڑے بھائی کو ماردوں کیونکہ گو اپنے بڑے بھائی کا ادب کرتا ہے لیکن وہ یہ بھی سمجھتا ہے کہ وہ اپنے سکھ کو میرے لئے قربان کرتا ہے اور جانتا ہے کہ اگر کچھ چھوٹے ہونے کی قیمت ادا ئی ہورہی ہے تو کچھ بڑے ہونے کی قیمت بھی ادا ہو رہی ہے۔چھوٹا سمجھتا ہے کہ گو یہ آگے بیٹھتا ہے اور میں پیچھے بیٹھتا ہوں لیکن جب باپ موجود نہ ہو اس کا فرض ہے کہ کما کر چھوٹے بھائیوں کو پالے یا وہ مصیبت میں ہوں تو یہ انہیں بچانے کیلئے جد و جہد کرے یا باپ کی عدم موجودگی میں ان کا حافظ ونگران ہو۔پس اس پر جو ادب کی قربانی ہے وہ گراں نہیں گزرتی وہ سمجھتا ہے کہ دونوں ہی اپنے مقام کی قیمت ادا کر رہے ہیں وہ ایک طرح دے رہا ہے اور میں دوسری طرح دے رہا ہوں۔اسی طرح میاں بیوی کا تعلق ہے بیوی کھانا پکاتی ہے اور بظاہر وہ ایک ملازمہ نظر آتی۔لیکن دوسرے موقع پر اُس کا میاں اُس کی ہر بات مان رہا ہوتا ہے اور بیوی سمجھتی ہے کہ گو میں اس کا کام کرتی ہوں مگر اس کو بھی میری اطاعت کی قیمت دوسری طرح ادا کرنی پڑتی ہے۔خاوند اس