خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 73 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 73

خطبات محمود ۷۳ سال ۱۹۳۶ء فرمانبرداری ایسی اعلیٰ چیز ہے کہ دشمن بھی اس سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا مگر بغیر مصائب میں پڑے اور تکلیفوں کو برداشت کرنے کے یہ مقام حاصل نہیں ہوسکتا اسی طرح ایک اور موقع پر ایک ترک جرنیل نے روسیوں سے لڑائی کی۔ترک جرنیل کو مشورہ دیا گیا کہ اپنے ہتھیار ڈال دو کیونکہ دشمن بہت زیادہ طاقتور ہے لیکن وہ اس پر تیار نہ ہوا۔آخر وہ قلعہ میں بند ہو گیا روسیوں نے مہینوں اُس کا محاصرہ رکھا اور کوئی کھانے پینے کی چیز باہر سے اندر نہ جانے دی۔نتیجہ یہ ہوا کہ جب غذا کا ذخیرہ ختم ہو گیا تو اُس نے سواری کے گھوڑے ذبح کر کے کھانے شروع کر دیئے مگر ہتھیار نہ ڈالے لیکن آخر وہ بھی ختم ہو گئے تو اُس نے بُوٹوں کے چمڑے اور دوسری ایسی چیزیں ابال اُبال کر سپاہیوں کو پلانی شروع کر دیں مگر ہتھیار نہ ڈالے۔آخر سب سامان ختم ہو گئے اور روسی فوج نے قلعہ کی دیواروں کو بھی توڑ دیا تو یہ بہادر سپاہی اطاعت قبول کرنے پر مجبور ہوئے۔چونکہ یہ ایک عام قاعدہ ہے کہ مفتوح فاتح کے سامنے اپنی تلوار پیش کرتا ہے اسی قاعدہ کے مطابق جب اُس ترکی جرنیل نے روسی کمانڈر کے سامنے اپنی تلوار پیش کی تو روسی کمانڈر کی آنکھوں میں آنسو آگئے اور وہ کہنے لگا میں ایسے بہادر جرنیل کی تلوار نہیں لے سکتا۔تو اطاعت اور قربانی اور ایثار ایسی اعلیٰ چیزیں ہیں کہ دشمن کے دل میں بھی درد پیدا کر دیتی اور اس کی آنکھوں کو نیچا کر دیتی ہیں۔انگریزی قوم سے جہاں اچھے واقعات ہوئے ہیں وہاں اس سے ایک بُرا واقعہ بھی ہوا مگر اس کے اندر بھی یہ سبق ہے کہ قربانی اور ایثار نہایت اعلیٰ چیز ہے۔جب نپولین کو انگریزوں کے مقابلہ میں شکست ہوئی اور اُس کے اپنے ملک میں بغاوت ہوگئی تو اس نے کہا میں اپنے آپ کو اب خود انگریزوں کے سپرد کر دیتا ہوں۔انگریزوں سے ہی اس کی لڑائی تھی چنانچہ وہ اُسے پکڑ کر انگلستان لے گئے۔جب پارلیمنٹ کے سامنے معاملہ پیش ہوا تو اُس نے کہا نپولین سے تلوار کیوں نہیں لی گئی ؟ یہ تلوار لینے کا وہی طریق تھا جس کا میں پہلے ذکر کر چکا ہوں کہ مفتوح جرنیل سے فاتح جرنیل تلوار لے لیا کرتا تھا۔جب پارلیمنٹ نے یہ سوال اُٹھایا تو ایک انگریز لارڈ کو اس غرض کیلئے مقرر کیا گیا کہ وہ جا کر نپولین سے تلوار لے آئے۔جب اُس کے سپرد یہ کام کیا گیا تو وہ پارلیمنٹ میں کھڑا ہو گیا اور اُس نے کہا ایسے بہادر دشمن سے جس نے اپنے آپ کو خود ہمارے