خطبات محمود (جلد 17) — Page 72
خطبات محمود ۷۲ سال ۱۹۳۶ء ہوتا ہے۔اس پر ہاتھ دماغ سے کہتا ہے کہ اس جگہ مکانہ مروائیں یہاں تکلیف ہوتی ہے اور دماغ اس کی بات مان لیتا ہے۔اسی طرح جماعت میں سے ہر شخص کا حق ہے کہ اگر وہ خلیفہ وقت سے کسی بات میں اختلاف رکھتا ہے تو وہ اُسے سمجھائے اور اگر اس کے بعد بھی خلیفہ اپنے حکم یا اپنی تجویز کو واپس نہیں لیتا تو اس کا کام ہے کہ وہ فرمانبرداری کرے۔اور یہ تو دینی معاملہ ہے دنیوی معاملات میں بھی افسروں کی فرمانبرداری کے تاریخ میں ایسے ایسے واقعات آتے ہیں کہ انہیں کی پڑھ کر طبیعت سرور سے بھر جاتی ہے۔بیلا کلاوا کی جنگ ایک نہایت مشہور جنگ ہے۔اس میں انگریزوں کو روسی فوج کا مقابلہ کرنا پڑا۔ایک دن جنگ کی حالت میں اطلاع ملی کہ روسی فوج کا ایک دستہ حملہ کیلئے آ رہا ہے اور اُس میں آٹھ نو سو کے قریب آدمی ہیں۔اس اطلاع کے آنے پر انگریز کمانڈر نے ماتحت افسر کو حکم دیا کہ تم اپنی فوج کا ایک دستہ لے کر مقابلے کیلئے جاؤ۔اس افسر کو اطلاع مل چکی تھی کہ روسی دستہ آنے کی اطلاع غلط ہے اصل میں روسی فوج آرہی ہے جو ایک لاکھ کے قریب ہے۔جب انگریز کمانڈر نے حکم دیا کہ ایک دستہ لے کر مقابلے کیلئے جاؤ تو اُس افسر نے کہا یہ خبر صحیح نہیں ایک لاکھ فوج آ رہی ہے اور اُس کا مقابلہ ایک دستہ نہیں کر سکتا۔انگریز کمانڈر نے کہا مجھے صحیح اطلاع ملی ہے تمہارا کام یہ ہے کہ اطاعت کرو۔وہ سات آٹھ سو کا دستہ لے کر مقابلہ کیلئے چل پڑا لیکن جب قریب پہنچا تو معلوم ہوا کہ حقیقت میں ایک لاکھ کے قریب دشمن کی فوج ہے۔بعض ماتحتوں نے کہا کہ اس موقع پر جنگ کرنا درست نہیں ہمیں واپس چلے جانا چاہئے مگر اس افسر نے گھوڑے کو ایڑ لگا کر آگے بڑھایا اور کہا ماتحت کا کام اطاعت کرنا ہے اعتراض کرنا نہیں۔باقیوں نے بھی گھوڑے بڑھا دئیے اور سب ایک ایک کر کے اس جنگ میں مارے گئے۔قوم آج تک اس واقعہ پر فخر کرتی ہے اور کہتی ہے کہ اس کی قوم کے لوگوں نے اطاعت کا کیسا اعلیٰ نمونہ دکھایا اور گو یہ انگریز قوم کا واقعہ ہے مگر کون ہے جو اِس واقعہ کو سن کر خوشی محسوس نہیں کرتا۔ایک جرمن بھی جب اس واقعہ کو پڑھتا ہے تو وہ فخر محسوس کرتا اور کہتا ہے کاش ! یہ نمونہ ہماری قوم دکھاتی ، ایک فرانسیسی بھی جب یہ واقعہ پڑھتا ہے تو فخر محسوس کرتا اور کہتا ہے کاش ! یہ نمونہ ہماری قوم دکھاتی ، ایک روسی بھی جب واقعہ پڑھتا ہے تو فخر محسوس کرتا اور کہتا ہے کاش ! یہ نمونہ ہماری قوم دکھاتی۔پس اطاعت اور افسر کی