خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 696 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 696

خطبات محمود ۶۹۶ سال ۱۹۳۶ ہوسکتا لیکن اسے چاہئے کہ وہ ان معنوں میں تو رَبُّ العالمین بنے کہ جسے اس کے ساتھ واسطہ پڑے اُس کے ساتھ وہ ربوبیت کا معاملہ کرے۔اس کے بعد جن لوگوں سے اس کا واسطہ نہیں پڑا اُن کو بھی اللہ تعالیٰ اسی شاخ میں شامل کر دے گا۔مثلاً اُس کا واسطہ ایک ہزار انسانوں سے پڑا ہے اور وہ ان کے ساتھ ربوبیت کا معاملہ کرتا ہے تو خدا تعالیٰ اس کے رجسٹر میں یہی لکھے گا کہ وہ تمام مخلوق سے ربوبیت کا معاملہ کرتا ہے۔دوسرا طریق اس کا یہ ہے کہ عمل کی طاقت جہاں محدود ہے وہاں اللہ تعالیٰ نے خیال کی طاقت کو غیر محدود پیدا کیا ہے۔آریہ اعتراض کرتے ہیں کہ انسانی اعمال محدود ہیں پھر ان کا اجر کس طرح غیر محدود ہو سکتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس کا یہی جواب دیا ہے کہ انسان کے اعمال بے شک محدود ہیں مگر اس کی نیت محدود نہیں انسان نے کب کہا تھا کہ ساٹھ یا ستر سال کی عمر میں اُسے وفات دے دی جائے اس کی نیت غیر محدود تھی اور ارادہ غیر محدود عمل کرنے کا تھا اور اس کے عوض اللہ تعالیٰ کا وعدہ اسے غیر محدود جنت دینے کا تھا۔اب خدا تو اسے غیر محدود جنت دینے پر قادر ہے لیکن انسان غیر محدود عمل کرنے پر قادر نہیں۔خدا تعالیٰ جب چاہے اسے وفات دے سکتا ہے۔پس اس کی اس کمزوری کا فائدہ بھی اللہ تعالیٰ اسے ضرور دے گا۔تو دوسرا ذریعہ رَبُّ الْعَلَمِین بنے کا ارادہ ہے۔تمہارے دل میں یہ جوش ہونا چاہئے کہ تمام دنیا کو ہدایت دی جائے ، تمام دنیا کو آرام اور سکھ پہنچایا جائے ، تمام مخلوق کی ترقی کا موجب بنا جائے۔اب اگر تمہارا ارادہ ہزار اشخاص کو فائدہ پہنچانے کا تھا مگر موقع صرف سو کو ہی پہنچانے کا ملا تو ثواب تمہیں ہزار کا ہی ہوگا اور اگر ارادہ غیر محدود مخلوق کو فائدہ پہنچانے کا تھا مگر موقع صرف ہزار ہی کو پہنچانے کا ملا تو ثواب بھی غیر محدود کا ہی ہوگا۔اسی اصل کے ماتحت آنحضرت ﷺ نے فرمایا نِيَّةُ الْمُؤْمِن خَيْرٌ مِنْ عَمَلِه ۴ پس بدلہ اللہ تعالیٰ عمل کے مطابق نہیں بلکہ نیت کے مطابق دیتا ہے اور اسی لئے انسان غیر محدود کا وارث بنتا ہے۔انسان جب اپنے جذبات کو رَبُّ الْعَلَمِین کی صفت کے ماتحت کر لیتا ہے اور اس کی نیت یہ ہو جاتی ہے کہ ساری دنیا بلکہ سارے عالم کی بہترین کی کوشش کرے لیکن کر ان کیلئے ہی سکتا ہے جس سے اس کا واسطہ پڑے تو وہ مظہرِ رَبُّ العَلَمِين بن جاتا ہے اور اُس وقت تعریف کا مستحق ہو جاتا ہے۔فرض کرو وہ دس آدمیوں کو فائدہ پہنچا سکتا