خطبات محمود (جلد 17) — Page 691
خطبات محمود ۶۹۱ سال ۱۹۳۶ خوبصورت ہے مگر اسے یہ علم نہیں ہوتا کہ ابھی ڈس کر اُسے مار دے گا۔تو علم کی کمی کی وجہ سے یا علم کی غلطی کی وجہ سے لوگ تعریف کر دیتے ہیں۔پھر کبھی تعریف علم کے ماتحت تو ہوتی ہے مگر دل - نہیں ہوتی۔مثلاً ایک شخص بھوکا ہے اُسے کئی روز کا فاقہ وہ دیکھتا ہے کہ ایک آدمی کسی دوسرے بھو کے کو کھانا کھلا رہا ہے اب اس کی زبان تو کہتی ہے کہ کیسا نیک دل آدمی ہے مگر اس کا دل یہ کہہ رہا ہوتا ہے کہ کاش! مجھے بھی کھلا تا گو اس کی پوری مثال نہیں مگر اس سے مشابہہ مثال حضرت ابراہیم علیہ السلام کا وہ واقعہ ہے جو قرآن کریم میں آتا ہے اور چار پرندوں کے واقعہ سے مشہور ہے۔آپ نے خدا تعالیٰ سے سوال کیا کہ آپ مُردوں کو کس زندہ کرتے ہیں؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کیا تم کو میری طاقتوں پر ایمان نہیں؟ آپ نے جواب دیا ایمان تو ہے وَلَكِنْ لِيَطْمَئِنَّ قَلْبِي ! یہ زبان کا ایمان ہے میں دیکھتا ہوں کہ آپ مُردوں کو زندہ کرتے ہیں اور اقرار کرنا پڑتا ہے کہ کرتے ہیں مگر دل کہتا ہے کہ یہ طاقت میری اولاد کی نسبت بھی استعمال ہو، میں چاہتا ہوں کہ یہ نشان اپنے نفس میں دیکھوں۔اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ آپ کی قوم چار دفعہ مُردہ ہوگی اور ہم اسے چار دفعہ زندہ کریں گے۔چنانچہ ایک دفعہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں ان کے ذریعہ حضرت ابراہیم کی آواز بلند ہوئی اور یہ مُردہ زندہ ہوا پھر حضرت عیسی علیہ السلام کے ذریعہ حضرت ابراہیم کی آواز بلند ہوئی اور یہ مُردہ زندہ ہوا پھر آنحضرت ﷺ کے ذریعہ وہی آواز بلند ہوئی اور اس مُردہ قوم کو زندگی ملی اور چوتھی بار حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ ابراہیمی آواز پھیلی اور وہی مُردہ زندہ ہوا۔چار دفعہ ابراہیمی نسل کو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے آواز میں دیں اور چاروں دفعہ وہ دوڑ کر جمع ہو گئیں۔پہلا پرندہ جسے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بلایا اور اطمینانِ قلب حاصل کیا وہ موسوی اُمت تھی ، دوسرا پرندہ عیسوی اُمت تھی، تیرا پرندہ ( آنحضرت ﷺ کے جلالی ظہور کی حامل اور مظہر ) محمدی جماعت ہے اور چوتھا پرندہ ( آپ کے جمالی ظہور کی مظہر ) جماعت احمدیہ ہے جس کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم کے قلب کو راحت پہنچائی اور آپ نے کہا کہ واقعی میرا خدا زندہ کرنے والا ہے۔حضرت ابراہیم نے جواب دیا تھا کہ لِيَطْمَئِنَّ قَلْبِی جس کا مطلب یہی ہے کہ حضور ! زبان تو اقرار کرتی ہے اور میں ہر روز دیکھتا ہوں کہ آپ مُردوں کو زندہ کرتے ہیں پھر مجھے کس طرح انکار ہو سکتا ہے کہ آپ ایسا کر سکتے ہیں لیکن اگر میری اولاد ہدایت نہ پائے تو