خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 674 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 674

خطبات محمود ۶۷۴ سال ۱۹۳۶ نے یہ بحیثیت انسان نہیں کہا کہ اگر تو پیدا نہ ہوتا تو میں زمین و آسمان کو پیدا نہ کرتا بلکہ نمائندہ صداقت ہونے کی حیثیت سے کہا اور اس وجہ سے کہا کہ محمد ﷺ کا وجود دسچائی سے مل گیا تھا یہاں تک کہ سچائی اور محمد ماہ میں کوئی فرق نہ رہا تھا۔اسی طرح اب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو خدا تعالیٰ نے کہا کہ لَوْلَاكَ لَمَا خَلَقْتُ الافلاک ، کہ اگر تو نہ ہوتا تو میں زمین و آسمان کو پیدا نہ کرتا۔یہ بھی آپ کو بحیثیت انسان نہیں کہا گیا بلکہ ایک نمائندہ صداقت ہونے کی حیثیت سے کہا گیا اور اس وجہ سے کہا گیا کہ آپ کا وجود سچائی سے مل گیا یہاں تک کہ آپ میں اور سچائی میں کوئی فرق نہ رہا۔پس جب خدا نے کہا کہ لَوْلَاكَ لَمَا خَلَقْتُ الافلاک تو اس کے یہی معنی تھے کہ اگر سچائی نہ ہوتی ، اگر دنیا میں یہ حقیقت مضمرہ نہ ہوتی جو سارے عالم کی جان ہے جو خدا میں سے آتی اور پھر خدا میں ہی جا کر مل جاتی ہے تو میں زمین و آسمان کبھی پیدا نہ کرتا۔یہ سارا عالم اس سچائی کیلئے پیدا کیا گیا ہے اس دائگی ، اس ازلی اور اس ابدی سچائی کیلئے جو خدا میں سے آتی اور خدا میں ہی واپس چلی جاتی ہے اس دائمی سچائی کے کامل نمائندے محمد ملتے تھے۔پس اللہ تعالیٰ نے انہیں فرمایا لَوْلَاكَ لَمَا خَلَقْتُ الافلاک۔اور اس دائمی سچائی کے خلی نمائندے حضرت مسیح موعود علیہ السلام تھے پس اللہ تعالیٰ نے آپ کو بھی فرمایا کہ لَوْلَاكَ لَمَا خَلَقْتُ الافلاک لیکن مستقل طور پر محمد ﷺ کو ہی کہا گیا ہے کہ لَوْلَاكَ لَمَا خَلَقْتُ الافلاک یعنی اسے محمد مال لے چونکہ تو اس دائمی سچائی کا نمائندہ ہے جو مجھ میں سے آتی اور مجھ میں ہی آکر مل جاتی ہے اور جس کا اشارہ هُوَ الْاَوَّلُ وَالْآخِرُ وَالظَّاهِرُ وَالْبَاطِنُ ۲۵ میں بھی ہے اس لئے اگر تو پیدا نہ ہوتا جو سچائی کا نمائندہ بننے والا تھا تو میں زمین و آسمان کبھی پیدا نہ کرتا مگر چونکہ تو ایک زمانہ میں میری سچائی کا کامل نمائندہ بنے والا تھا اس لئے میں نے زمین و آسمان کو پیدا کر دیا کیونکہ تیرے ذریعہ میری اس صداقت اور سچائی کا ثبوت ملنا تھا۔پھر جب محمد ﷺ کے وجود میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے آکر اپنے وجود کو فنا کر دیا۔آپ کی محبت میں اپنے آپ کو مٹادیا اور سچائی کی اُس چادر کو اوڑھ لیا جو دائمی ہے، جو از لی اور ابدی ہے، جو خدا میں سے آتی اور خدا میں ہی واپس چلی جاتی ہے تو خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بھی الہاما فرمایا کہ لَوْلَاكَ لَمَا خَلَقْتُ الافلاک اب خود سوچ لوجس مجرم اور جس