خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 665 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 665

خطبات محمود سال ۱۹۳۶ سلسلہ کیلئے جائداد بنانے پر لگارہا ہوں تا اس کی آمد سے کام چلائے جاسکیں اور چندوں کی ضرورت صرف وقتی کاموں کیلئے ہی رہے لیکن اس تحریک کے جو دوسرے حصے ہیں وہ کبھی ختم نہیں ہو سکتے خصوصاً سادہ زندگی کی تحریک جو بہت ضروری ہے یہی ہے جو امیر وغریب کا امتیاز مٹاتی ہے۔مغربی اور مشرقی اور شہری و دیہاتی تمدن میں سوائے اس کے کیا فرق ہے کہ گاؤں کے امیر کی زندگی بھی سادہ ہوتی ہے مگر شہروں میں ایسا نہیں۔ایک گاؤں میں دوسو ایکڑ زمین کے مالک کا تمدن بھی ایسا ہی ہوتا ہے جیسا دوا یکٹر زمین کے مالک کا۔اور وہ دونوں دارے میں بیٹھ کر ا کٹھے باتیں کرتے ہیں گو یہ ممکن ہے کہ دو ایکڑ کے مالک کو کسی وقت فاقہ کی نوبت آجاتی ہو مگر دو سو ایکڑ کا مالک دونوں وقت پیٹ بھر کر کھانا کھا تا ہو یا یہ تو دودھ پیتا اور مکھن کھا تا ہو اور وہ لسی پی کر ہی گزارہ کر لیتا ہومگرا جزاء دونوں کی غذا کے ایک ہی ہوں گے۔وہی ساگ پات دونوں کھا ئیں گے یہ نہیں کہ بڑے زمیندار کی خوراک ایسی ہو کہ وہ غریب کے گھر میں کھانا نہ کھا سکے۔قادیان کے انہی معترضین میں سے جو اعتراض کرتے رہتے ہیں ایک کے متعلق مجھے ایک لطیفہ یاد ہے۔مجھے ایک ایسی دعوت میں جانے کا اتفاق ہوا جہاں وہ بھی مدعو تھا۔میزبان نے نہ معلوم اس لئے پلاؤ نہیں پکوایا تھا کہ وہ اس کی توفیق نہ رکھتا تھا یا یونہی اُس نے جدت کی۔میں نے یہ خیال کر کے کہ یہ شرمندہ نہ ہو کہا کہ یہ آپ نے بہت اچھا کیا جو پلاؤ نہ پکوایا مجھے تو پلاؤ کھانے سے بخار ہو جاتا ہے (بوجہ ضعف معدہ کے مجھے پلاؤ کھانے سے اکثر حرارت ہو جاتی ہے خصوصاً جبکہ ایک دو دعوتیں اکٹھی ہو جائیں ) یہی وجہ ہے کہ میں دعوتوں میں شریک ہونے سے اکثر اجتناب کرتا ہوں۔خیر تو میں نے کہا کہ یہ پلاؤ کی رسم تو اُڑا دینی چاہئے اور میری غرض یہی تھی کہ کوئی اور شخص بول نہ اُٹھے اور میزبان کی دل شکنی نہ ہو مگر اُس شخص سے نہ رہا گیا اور وہ بول اُٹھا کہ میں تو اس دعوت کو دعوت ہی نہیں سمجھتا جس میں پلاؤ نہ ہو۔میں تو تعریف کر رہا تھا کہ یہ عمدہ کام ہے اور ایک غرض یہ بھی تھی کہ کوئی شخص کوئی دل شکنی کا کلمہ نہ کہہ دے مگر پھر بھی وہ شخص رہ نہ سکا۔لیکن زمینداروں میں دیکھ لو کھانے کی نوعیت میں فرق بہت کم ہوگا۔طرز بود و باش ایسی ہوتی ہے کہ سب آزادی سے ایک دوسرے سے ملتے جلتے ہیں مگر شہروں میں ایسا نہیں ہوتا۔ایک شخص جس کی تنخواہ بیس روپے ہے دو ہزار تنخواہ والے سے ملنے کی کبھی جرات نہ کر سکے گا حالانکہ یہاں بھی