خطبات محمود (جلد 17) — Page 657
خطبات محمود سال ۱۹۳۶ اور شفقت کی وجہ سے خیال تھا کہ میرے درد کو دیکھ کر آپ کو ضرور رحم آئے گا۔اس لئے میں آپ کی مجلس میں جاتا اور زور سے اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمُ کہتا اور پھر دیکھتا کہ آپ کے ہونٹ حرکت کرتے ہیں یا نہیں مگر آپ جواب نہ دیتے اور میں گھبراہٹ میں اُٹھ آتا اور خیال کرتا کہ آپ کے ہونٹ ہلے ہوں گے مگر میں دیکھ نہیں سکا اس لئے مجلس سے اُٹھ کر چلا جاتا اور پھر لوٹ کر آکر زور - السَّلَامُ عَلَيْكُمْ کہہ کر پھر ہونٹوں کی طرف دیکھتا اور پھر اُٹھ آتا اور پھر جاتا مگر آپ جواب نہ دیتے ہاں سنکھیوں سے کبھی کبھی میری طرف دیکھ لیتے۔وہ کہتے ہیں جب بہت دن گزر گئے تو میں اپنے چیرے بھائی کے پاس جن کے ساتھ میں ہمیشہ کھاتا پیتا اور ہتا سہتا تھا گیا وہ اپنے باغ میں کام کر رہا تھا۔میں نے اُسے کہا کہ اے بھائی! تو میرا محرم راز ہے ہم دونوں ہمیشہ اکٹھے رہے ہیں اور ہماری کوئی بات ایک دوسرے سے پوشیدہ نہیں تجھے خوب معلوم ہے کہ میں مخلص مسلمان ہوں اور نفاق کی کوئی رگ مجھ میں نہیں میں آج گھبراہٹ میں تجھ سے پوچھنے آیا ہوں کہ بتاؤ کیا میں منافق ہوں ؟ مگر اُس نے کوئی جواب نہ دیا اور صرف آسمان کی طرف نظر اٹھا کر دیکھا جس سے اُس کا مطلب یہ تھا کہ خدا اور اُس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ جب ایسے بھائی نے جو میرا محرم راز تھا مجھے یہ جواب دیا تو میں نے محسوس کیا کہ زمین مجھ پر تنگ ہو گئی ہے اور میں گھبرا کر باغ کی دیوار پھاند کر باہر آ گیا اور دیوانہ وار شہر کی طرف چل پڑا۔جب شہر کے پاس پہنچا تو ایک شخص میرے قریب آیا اور پوچھا کہ کیاں تو فلاں شخص ہے؟ میں نے کہاں ہاں تو اُس نے مجھے ایک خط دیا کہ یہ فلاں بادشاہ نے بھیجا ہے یہ ایک عرب کا عیسائی بادشاہ تھا جو رومی حکومت کے ماتحت تھا۔میں نے کھول کر پڑھا تو اُس میں لکھا تھا کہ ہم جانتے ہیں کہ تم عرب کے رئیس ہو اور تمہیں محمد (ﷺ) نے ذلیل کیا ہے حالانکہ تمہاری قدر کرنی چاہئے تھی اگر تم میرے پاس آجاؤ تو میں تمہارے شایانِ شان تم سے سلوک کروں گا۔مالک کہتے ہیں کہ میرے بھائی نے مجھے جو جواب دیا تھا اُس سے میرا دل اُلٹ رہا تھا وہ خط دیکھ کر مجھ پر سکتہ کی حالت طاری ہوگئی اور میں نے سوچا کہ یہ شیطان کا آخری حملہ ہے ایسا نہ ہو کہ میرے قدم لڑکھڑا جائیں اور میں نے اُس قاصد سے کہا کہ میرے پیچھے آؤ۔ایک جگہ ایک آدمی بھٹی جلا رہا تھا میں نے اُس خط کو پُرزے کر کے اُس میں ڈال دیا اور اُس سے کہا کہ اپنے بادشاہ سے کہہ دینا کہ اس کا جواب یہ ہے۔یہ ان کے ابتلاء اور مصیبت