خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 637 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 637

خطبات محمود ۶۳۷ سال ۱۹۳۶ ہے کہ وہ گھونگھٹ نکالے اور کام کرتی پھرے اور اس کا ایسا کرنا عین وقار ہوگا۔پس وہی چیز جو ایک برقعہ پوش امیر عورت کیلئے بے وقاری کا موجب ہے وہ ایک زمیندار عورت کیلئے بے وقاری کا موجب نہیں بلکہ وقار کا موجب ہے اس لئے نہیں کہ وہ عادت کے خلاف کام کرتی ہے بلکہ اس لئے کہ ایک امیر برقعہ پوش عورت کام کیلئے اور کئی وسائل اختیار کرسکتی ہے اور اپنی زینت کے مقامات کو بھی چھپا سکتی ہے اور اگر وہ ایسا نہ کرے تو شریعت اس پر الزام رکھتی ہے کہ اس نے کیوں اپنا نقاب اُٹھایا لیکن ایک غریب زمیندار عورت پر الَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا ت کے مطابق کوئی الزام نہیں آئے گا کیونکہ وہ مجبور ہے کہ باہر جا کر اپنے خاوند کے ساتھ کام کرے۔پس ایک نقاب کا اُٹھا دینا حکمت کے خلاف ہے اور دوسری کا برقعہ پہننا حکمت کے خلاف ہے ہاں اس کیلئے یہ ضروری ہے کہ وہ گھونگھٹ نکالے کیونکہ کھیت پر کام کرنے میں گھونگھٹ اس کے کام میں روک نہیں بن سکتا لیکن اگر وہ کسی وقت گھونگھٹ بھی اُتار دیتی اور ننگے سر پھرنے لگتی ہے تب ہم اس کے متعلق بھی کہیں گے کہ اُس کا یہ فعل وقار کے خلاف ہے کیونکہ گھونگھٹ اتارنے کی اسے کوئی ضرورت نہ تھی اور نہ گھونگھٹ اُتارنے کا وہ کوئی موقع اور محل تھا۔پھر شریعت نے ظاہری پردہ سے زیادہ اندرونی پردہ پر زور دیا ہے اور کسی عورت کو یہ اجازت نہیں دی کہ وہ اپنی کسی بہن یا بیٹی یا سہیلی کے سامنے تنگی ہولیکن اگر کوئی عورت اپنی بیٹی یا بہن کے سامنے پیشاب کرنے بیٹھ جاتی ہے تو چونکہ اُس کا یہ فعل عقل و سمجھ کے خلاف اور موقع و محل کی رعایت سے عاری ہوگا اس لئے ہم کہیں گے کہ وہ عورت بے وقار ہے لیکن وہی عورت اپنی مجبوری کے ماتحت جب اسے دردِ زہ ہوتا ہے اور بچہ جننے کا وقت قریب آتا ہے تو دانا دائی یا واقف کار معالج کو بلاتی اور اس کے سامنے ننگی ہو جاتی ہے اور کوئی نہیں کہتا کہ یہ فعل وقار کے خلاف ہے۔تو حکمت کے ماتحت کام کرنا وقار ہوتا اور بغیر کسی حکمت کے کام کرنا بے وقاری کہلاتا ہے۔اب دیکھ لو قرآن کریم میں وقار کا لفظ انہی معنوں میں استعمال ہوا ہے۔حضرت نوح علیہ السلام کہتے ہیں اے میرے ربّ! میں نے اس قوم کے سامنے کھول کھول کر اپنی باتیں پیش کر دیں ، میں نے اس خیال سے کہ شاید دوسرے لوگوں کے سامنے انہیں میرے منہ سے نصیحت کی بات سن کر تکبر میں اپنی عزت کا خیال نہ آجائے اور یہ نہ کہہ دیں کہ ہماری ہتک ہو گئی علیحدگی میں بھی انہیں باتیں سمجھائیں