خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 524 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 524

خطبات محمود ۵۲۴ سال ۱۹۳۶ اس کا کام ختم ہو جاتا ہے وہ ان کے ملنے کیلئے بیتاب ہو جاتا ہے تو خدا تعالیٰ کی محبت اپنے اندرکس قدر کشش رکھتی ہوگی۔یہی وجہ ہے کہ مؤمن جب تک دنیا میں اپنے فرائضِ منصبی میں مشغول رہتا ت ہے وہ مجبوراً اپنے محبوب خدا سے دور رہنا برداشت کر لیتا ہے لیکن جب وہ اپنے فرائض منصبی کو پورا کر لیتا ہے اُس وقت وہ ایک منٹ بھی دنیا میں رہنا پسند نہیں کرتا بلکہ چاہتا ہے کہ اُڑے اور خدا کے پاس پہنچ جائے۔ہاں جب تک اس کا فرضِ منصبی پورا نہیں ہوتا وہ سمجھتا ہے کہ میں مجبور ہوں کیونکہ میرے آقا کا حکم یہی ہے کہ میں دنیا میں کام کروں مگر کام کے ہو جانے کے بعد وہ ایک منٹ بھی دنیا میں ٹھہر نا پسند نہیں کرتا۔پس جب تک دنیا میں اسلام کی حکومت قائم نہیں ہو جاتی میرا اور جماعت کا کام ختم نہیں ہوسکتا اور جن کی زندگیوں میں بھی یہ کام ختم ہو گیا کیونکہ ضروری نہیں کہ ہماری زندگیوں میں ہی یہ کام پورا ہو وہ اس دنیا میں رہنا پسند نہیں کریں گے بلکہ ان کی روحیں اُڑیں گی اور خدا سے جاملیں گی اور پھر نئی پود کو نیا کام سپر د کیا جائے گا۔در حقیقت لوگوں نے اس بات کو سمجھا نہیں کہ آخرت کے انعامات کی کیا اہمیت ہے۔انہوں نے سب کچھ دنیا کو ہی سمجھ رکھا ہے اس لئے وہ اس کی ذرہ ذرہ سی بات پر مرتے ہیں حالانکہ دنیا ایک میدانِ جنگ ہے جہاں شیطان سے لڑائی جاری ہے۔کوئی شخص یہ لڑائی پسند نہیں کر سکتا کہ وہ ساری عمر لڑتا ہی رہے بلکہ وہ چاہتا ہے کہ لڑائی سے جلد سے جلد فارغ ہو کر اپنے گھر آئے۔پس جس طرح میدانِ جنگ عارضی مقام ہوتا ہے اسی طرح سچا مؤمن چاہتا ہے کہ وہ دنیا میں جلد سے جلد شیطان سے لڑائی ختم کر کے اپنے مولیٰ کے پاس پہنچے۔پس ایک بار پھر میں جماعت کے لوگوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ سستی اور غفلت کو چھوڑ دیں ورنہ اس بات کیلئے تیار ہیں کہ آج نہیں تو کل خدا تعالیٰ کی طرف سے انہیں ٹھوکر لگے گی اور ان پر ایسا ابتلاء آئے گا کہ وہ ایمان سے بالکل محروم کر دئیے جائیں گے۔خدا تعالیٰ کو اس بات کی پرواہ نہیں ہوتی کہ زید یا بکر اس کے سلسلہ میں داخل ہیں یا نہیں۔اگر کوئی شخص اس کے دین میں نہیں رہتا اور خدا تعالیٰ دیکھتا ہے کہ وہ اس کے دین کو چھوڑ کر الگ ہو رہا ہے تو وہ کہتا ہے جاؤ میرے دین کا کام کرنے والے اور بہت سے موجود ہیں میں ان سے کام لے لوں گا بلکہ خدا تو خدا