خطبات محمود (جلد 17) — Page 519
خطبات محمود ۵۱۹ سال ۱۹۳۶ حیثیت کے مطابق کرو۔جسے دو ہزار روپیہ ماہوار تنخواہ ملتی ہے وہ اپنے اخراجات کے لحاظ سے کمی کی کرے اور جسے دس روپے ملتے ہیں وہ اپنے اخراجات کے لحاظ سے کمی کرے اور اس طرح جو و روپیہ بچے وہ چندہ میں دے دیا جائے مگر معلوم ہوتا ہے چندہ دینے کا یہ گر جو میں نے بتایا تھا جماعت نے اس پر عمل نہیں کیا۔میں نے شروع میں بتایا تھا کہ تم منہ سے کہتے ہو ہم اپنا سب کچھ اسلام کیلئے قربان کرنے کیلئے تیار ہیں حالانکہ تمہارے پاس کچھ نہیں ہوتا اس صورت میں تمہارا دعوئی کیونکر صحیح ہو سکتا ہے تمہارا فرض یہ ہے کہ پہلے ٹھی میں کچھ لو اور پھر دینے کا نام لو اور مٹھی میں لینے کے معنی یہ ہیں کہ تم اپنی زندگیوں میں تغیر پیدا کر دکھانے میں ، پینے میں، پہننے میں اور مکانات کی آرائش و زیبائش غرض ہر چیز میں فرق کرو اور اپنی حیثیت کے مطابق کرو۔میں یہ نہیں کہتا کہ ایک غریب شخص بھی اتنا ہی چندہ دے جتنا ایک امیر دیتا ہے بلکہ اگر وہ پانچ روپے دے سکتا ہے تو پانچ ہی دے مگر پانچ روپیہ دینا بھی ایک غریب شخص کیلئے تبھی ممکن ہے جب وہ اپنے اخراجات میں کمی کرے گا جیسا کہ ایک امیر کیلئے پانچ سو روپیہ چندہ دینا بھی اُس وقت تک ممکن نہیں جب تک کہ وہ قربانی کر کے اخراجات کو کم نہیں کرتا۔ابھی وہ وقت نہیں آیا کہ میں امراء سے کہوں کہ جو کچھ ان کے پاس ہے وہ لائیں اور اسلام کیلئے قربان کر دیں۔ابھی نسبت کے طور پر ان سے قربانی کا مطالبہ کیا جاتا ہے۔مثلاً کہا جاتا ہے جو سو روپیہ لیتا ہے وہ دس روپے دے اور جو ہزار روپیہ کماتا ہے وہ ایک سو روپے دے لیکن جب وہ وقت آیا کہ کہا جائے جو کچھ پاس ہے سب اسلام کیلئے حاضر کر دو اس وقت شاید اور زیادہ لوگوں کا امتحان ہو جائے مگر اُس امتحان کے آنے تک ضروری ہے کہ جنہوں نے اپنے آپ کو تحریک جدید کے ادنیٰ امتحان میں شامل کیا ہوا ہے وہ اس میں کامیاب ہونے کی کوشش کریں۔مجھے تحریک جدید کے مالی شعبہ اور امانت فنڈ دونوں کی رپورٹوں کی سے معلوم ہوا ہے کہ ان دونوں شعبوں کے چندوں میں کمی آرہی ہے اور ایک سالہ اور دو سالہ مؤمن کمزوری دکھا رہے ہیں مگر مجھے اس کی کوئی گھبراہٹ نہیں۔میں چاہتا ہوں کہ ایسے لوگ گر جائیں اور ہمارا ساتھ چھوڑ دیں اور صرف ایسی ہی مخلص جماعت ساتھ رہ جائے جو پورے طور پر اطاعت کرنے اور اپنی ہر چیز قربان کرنے کیلئے تیار ہو۔میں قادیان کے لوگوں کو خصوصاً توجہ دلاتا ہوں کہ میرا ہرگز یہ ارادہ نہیں کہ اگر چندہ میں