خطبات محمود (جلد 17) — Page 502
خطبات محمود ۵۰۲ سال ۱۹۳۶ خدا تعالیٰ کو کیا جواب دوں گا۔پس میں خیمہ کی طرف بھاگا تا کہ زرہ اُتار دوں اور پھر جا کر دشمن کی سے لڑوں۔یہ وہ نقطہ نظر تھا جس پر صحابہ قائم تھے ان کے نزدیک مصائب اور قربانیاں صرف کھڑکیاں تھیں جن میں سے وہ اپنے محبوب کو جھانکتے تھے۔غرض مؤمن خدا تعالیٰ کے راستے میں پیش آمدہ تکالیف کو انعام سمجھتا ہے اور جو ان تکالیف کو انعام نہیں سمجھتا وہ اپنے دل میں ایمان رکھتا ہی نہیں۔پس ہماری جماعت کو چاہئے کہ وہ تکالیف اور مصائب کو اسی نقطہ نگاہ سے دیکھے یہ کہ قرب الہی کے حصول کیلئے ایک ذریعہ ہیں ہم کو تو صرف گالیاں دی جاتی ہیں اور کچھ تھوڑی سی تکالیف دی گئی ہیں۔نبی کریم ﷺ کے صحابہ کو تو گالیاں بھی دی گئیں اور انہیں قتل بھی کیا گیا اور جلا وطن بھی کیا گیا حتی کہ عورتوں تک کو شدید ابتلاؤں میں سے گزرنا پڑا۔خود رسول کریم ہے کی ایک صاحبزادی جب اُن کے خاوند نے اس وجہ سے انہیں مدینہ روانہ کر دیا کہ مکہ والے ان کو تکلیف دیتے تھے ان پر بزدل کفار نے حملہ کیا اور سواری سے گرا دیا۔اس وقت وہ حاملہ تھیں اسی صدمہ سے اُن کا حمل ساقط ہو گیا اور اسی تکلیف کی وجہ سے وہ آخر فوت ہو گئیں۔پس خدا کی راہ میں تکلیف پانا عزت ہے کیونکہ نبی کریم ﷺ اور آپ کے صحابہ عزت کیلئے پیدا کئے گئے تھے اگر یہ چیزیں عزت نہ ہوتیں تو آپ کو ہرگز ان باتوں سے واسطہ نہ پڑتا۔پس ہم کو اس بات سے خوش ہونا چاہئے کہ خدا تعالیٰ نے ہم کو اس قابل سمجھا کہ ہم گالیاں کھائیں اور ہم پر پتھر برسیں۔کشمیر کی تحریک کے موقع پر جب میں سیالکوٹ میں گیا تھا تو اس وقت میری تقریر کے موقع پر احرار نے ایک گھنٹہ پانچ منٹ تک پتھر برسائے اور گو میرا دل چاہتا تھا کہ میں بھی اس تکلیف سے حصہ لوں لیکن بہت سے دوستوں نے میرے گر د حلقہ کر لیا لیکن اللہ تعالیٰ نے میری خواہش کو پورا کرنے کیلئے تین پتھر مجھ تک پہنچا ہی دیئے۔یہ سنگ باری ایک گھنٹہ پانچ منٹ تک ہوتی رہی اس کے بعد ڈپٹی کمشنر نے حکم دیا کہ لوگ پانچ منٹ میں چلیں جائیں ورنہ لاٹھی چارج کیا جائے گا۔تب فواید احرار بہادر وہاں سے بھاگ گئے لیکن ایک گھنٹہ پانچ منٹ تک پتھر برستے رہے۔اس عرصہ میں بعض رؤساء نے مجھ سے کہا بھی کہ آپ چھت کے نیچے چلے آئیں اور بعض نے لیکچر ملتوی کرنے کو کہا مگر میں نے یہی جواب دیا کہ نہ میں لیکچر ملتوی کروں گا نہ اندر