خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 500 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 500

خطبات محمود سال ۱۹۳۶ دی تو گویا یہ سلوک تم نے اُس سے نہیں بلکہ مجھ سے روا رکھا۔پس ان تکالیف کا نام جو خدا تعالیٰ کے راستے میں ہم کو آتی ہیں ذلت رکھنا سراسر جہالت ہے۔اگر یہ تکالیف در حقیت ذلت ہوتیں تو ہم کو قرآن مجید میں یہ دعا سکھلائی جاتی کہ اے خدا! لوگ ہم کو گالیاں نہ دیں، ہمارا بائیکاٹ نہ کریں۔پس ہماری جماعت کو چاہئے کہ اس موقع پر سورۃ فاتحہ پر غور کرے کیونکہ ہر ایک وہ چیز جو خدا تعالیٰ کیلئے قربان کی جائے وہ گئی نہیں بلکہ ملی ہے اور وہ عزت ہے نہ کہ ذلت اور وہ انعام ہے کیونکہ جو چیز خدا تعالیٰ کے رستہ میں قربان کی جائے سینکڑوں گنا ہو کر قیامت کے دن واپس ملے گی۔اور جو لوگ دنیا کی نظروں میں ذلیل خیال کئے جاتے ہیں وہ خدا تعالیٰ کے نزدیک معزز ہیں اور حقیقی عزت وہی ہے جو اللہ تعالیٰ کے حضور حاصل ہو۔دنیاوی عزتیں تو محض جھوٹ اور فریب ہیں۔سجدہ کو دیکھو وہ بظاہر کیسی ذلت کی حالت ہے لیکن اس کے بارہ میں نبی کریم ﷺ فرماتے ہیں کہ مَنْ تَوَاضَعَ لِلهِ رَفَعَهُ اللهُ یا سجدہ میں چونکہ زمین پر سر رکھ دیا جاتا ہے اس لئے یہ بظاہر ذلت کی صورت ہے لیکن حضور فرماتے ہیں کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کیلئے نیچے کو جاتا ہے اللہ تعالیٰ اُس کو بلند کرتا ہے اور جو شخص دنیاوی نقطۂ نگاہ سے بلند ہونا چاہتا ہے خدا تعالیٰ اُس کو بلندی سے نیچے کی طرف لے جاتا ہے۔فرعون نے ہامان سے کہا تھا کہ مجھے ایک محل بنا دو جس پر چڑھ کر میں ذرا موسیٰ کے خدا کو تو دیکھوں ھے۔اللہ تعالیٰ نے اُس کے ساتھ عجیب سلوک کیا کہ اس کو بحر قلزم میں اپنا وجود دکھایا۔یعنی چونکہ وہ اوپر کو جانا چاہتا تھا خدا تعالیٰ نے کہا کہ تو اوپر کو کیا جاتا ہے میں تم کو نیچے ہی اپنا وجود دکھا دیتا ہوں۔پس فرعون جواو پر کو جانا چاہتا تھا اسے خدا تعالیٰ نیچے کی طرف لے گیا۔لیکن مؤمن خدا تعالیٰ کیلئے نیچے کی طرف جانا چاہتا ہے اسے اللہ تعالی اونچا کرتا ہے۔اصل بات یہ ہے کہ روحانی عالم میں اللہ تعالیٰ کا سلوک بالکل الٹ ہوتا ہے یہ گویا خواب کا سا معاملہ ہوتا ہے جیسے خواب میں تعبیر بعض اوقات اُلٹ ہوتی ہے جیسے موت سے مراد عمر کے لمبا ہونے اور دین کی ترقی کے ہیں اور ہنسنے سے مراد رنج اور رونے سے مراد خوشی کے ہوتے ہیں۔اسی طرح جسمانی اور روحانی عالم بعض امور میں اُلٹ چلتے ہیں۔پس جس قدر لوگ ہم کو گالیاں دیں گے اُسی قدر ہم کو عزت ملے گی اور جس قدر ہم کو دھتکاریں گے اسی قدر اللہ تعالیٰ ہم کو اپنے