خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 48 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 48

خطبات محمود ۴۸ سال ۱۹۳۶ء آکر بندوں کی نوکری کرے۔پس یہ تین سال کا معاہدہ نہیں بلکہ ساری عمر کا ہے۔ہم اس لئے باہر نہیں جاتے کہ واپس آئیں بلکہ اس لئے جاتے ہیں کہ خدا کی راہ میں مارے جائیں۔یہ ا بھی منہ کے الفاظ ہیں جب اللہ تعالیٰ ان الفاظ کے مطابق ہمارے نو جوانوں کو کام کرنے کی توفیق دے گا تو وہ ایک شاندار نظارہ ہو گا مگر جب تک وہ وقت آئے یہ الفاظ بھی ہمارے لئے خوشی کا موجب ہیں کیونکہ زبان کے الفاظ بھی جب عمل ان کے خلاف نہ ہو ایک قیمت رکھتے ہیں۔حضرت موسیٰ علیہ السلام کی جماعت تو زبانی بھی اس ایمان کا اظہار نہ کرسکی تھی۔قرآن کریم میں آتا ہے کہ جب ان کو معلوم ہوا کہ دشمن کا لشکر آن پہنچا ہے تو انہوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کہا کہ اِذْهَبُ أَنْتَ وَ رَبُّكَ فَقَاتِلَا إِنَّا هُنَا قَاعِدُونَ سے کہ آپ اور آپ کا خدا جائیں اور لڑائی کریں جب فتح ہو جائے گی تو ہم بھی آجائیں گے۔پس ایمان کی پہلی علامت تو یہی ہوتی ہے کہ منہ سے اظہار کیا جائے اگر وہ سچے دل سے ہوگا تو اللہ تعالیٰ اسے پورا بھی کر دے گا۔غرض منافق اپنے ایمان پر اندازہ کرتا ہے اس لئے جو لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ جماعت غریب ہے اتنا روپیہ کہاں سے آئے گا وہ بھی غلطی پر ہیں اور جو دشمن کی طاقت سے مرعوب ہیں اور سمجھتے ہیں کہ اس قلیل رقم سے ہم کیا کریں گے وہ بھی غلطی پر ہیں۔جو کہتا ہے کہ اتنا روپیہ کہاں سے آئے گا اُس نے مومنوں کے ایمانوں کا اندازہ نہیں کیا اور ان کے ایمان کے مطابق ان کی قربانیوں کا اندازہ نہیں لگایا۔اور جو کہتا ہے کہ اس سے کیا ہو گا اُس نے خدا کی نصرت اور تائید کا اندازہ نہیں کیا۔یہ ایک کام ہے جس کا خدا نے فیصلہ کیا ہوا ہے ہمیں اپنی زندگیوں پر شبہ ہو سکتا ہے، اپنی اولادوں پر شبہ ہو سکتا ہے، اپنی بیویوں کے وجود پر شبہ ہو سکتا ہے، اپنے دوستوں پر شبہ ہوسکتا ہے، زمین و آسمان کے وجود پر شبہ ہوسکتا ہے مگر اس پر کوئی شبہ نہیں ہو سکتا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ دنیا کے تمام ادیان کو شکست ہوگی اور اسلام کی فتح ہوگی۔اس وقت یہاں اتنے لوگ بیٹھے ہیں ان میں مؤمن اور منافق کی پہچان آسان نہیں۔منافق بھی ہماری نمازوں میں شامل ہوتے ہیں، روزوں میں شامل ہوتے ہیں ، درسوں میں آتے ہیں ، ان کی آنکھ، ناک اور چہروں سے کوئی یہ نہیں سمجھ سکتا کہ یہ منافق ہیں مگر انہی لوگوں میں وہ لوگ بھی ہیں جن کے اندر اللہ تعالیٰ نے ایسا ڈائنامیٹ بھرا ہوا ہے اور وہ ایسی قربانیاں کر سکتے ہیں کہ