خطبات محمود (جلد 17) — Page 468
خطبات محمود ۴۶۸ سال ۱۹۳۶ کیلئے یعنی اوپر سے نیچے آنے والے کیلئے سیڑھی موجود ہے مگر نیچے سے اوپر جانے والے کیلئے سیڑھی موجود نہیں پس معلوم ہوا کہ دنیا میں ان تینوں امور کے حصول کیلئے الگ الگ ذرائع ہیں لیکن ایک کی ذریعہ مشترک بھی ہے اور وہ خدا تعالیٰ سے کامل تعلق پیدا کرنا ہے۔اخلاق کیلئے کوشش کرنے سے اخلاق مل جائیں گے، مادیات کیلئے کوشش سے مادیات حاصل ہو جائیں گی مگر ہر ایک کوشش کا نتیجہ اسی دائرہ کے اندر محد ودر ہے گا مگر روحانیت کی درستی کرنے والے کو ساری چیزیں ملیں گی۔صحابہ رضی اللہ عنہم ایمان لاتے وقت اس بات کی بیعت نہیں کرتے تھے کہ گلیاں چوڑی رکھیں گے، سڑکیں کھلی رکھیں گے ، صفائی کریں گے بلکہ لا إِلهَ إِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللهِ پڑھتے تھے اسی سے اخلاق درست ہوتے تھے۔اخلاق کی درستی سے لازماً دنیا درست ہوتی تھی۔اُس کو وقت ایک مسلمان کے منہ سے نکلی ہوئی بات کو دنیا میں کوئی رد نہیں کر سکتا تھا کیونکہ وہ سچ بولتا تھا اور تجارت میں دیانتدار کو دیکھ کر دنیا گویا مسلمان ہی کو تجارت سپر د کر دیتی تھی اور رعایا سے انصاف برتتے ہوئے دیکھ کر وہ لوگ چاہتے تھے کہ مسلمان ہی ہمارے حاکم ہوں۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانہ کا واقع ہے کہ ایک موقع پر آپ کو شام سے فوج ہٹانی پڑی کیونکہ رومیوں کی فوج زیادہ تھی لیکن شامی لوگ روتے اور اصرار کرتے تھے کہ ہم آپ کی مدد کریں گے آپ یہاں سے نہ جائیں۔باوجود اس کے کہ رومی بھی عیسائی تھے اور شامی بھی عیسائی تھے مگر باوجود رومیوں کے ہم مذہب ہونے کے شامی اِس بات پر آمادہ تھے کہ مسلمانوں کی مدد کریں اور اپنی قوم کے ماتحت رہنا پسند نہ کرتے تھے اس کی وجہ یہی تھی کہ مسلمان اپنے ماتحتوں سے دیانت دارانہ سلوک کرتے تھے۔پس گو بادشاہت دُنیوی کے ہے ہر مذہب کے لوگ بادشاہ ہوتے ہیں مگر مسلمانوں کی بادشاہت دنیوی نہ تھی۔یہ بادشاہت ان کے مذہب کے طفیل ملی تھی اس لئے مذہب کے پیچھے چلتی تھی اور اس وجہ سے اس میں ایسی خوبیاں تھیں کہ ان سے مذہبی اختلاف رکھنے والے بھی نہ چاہتے تھے کہ مسلمانوں کی بادشاہت جاتی رہے۔مگر گو یہ حکومت لا إله إلا الله مُحَمَّدٌ رَّسُولُ الله کے طفیل ملی تھی لیکن صرف زبانی دعوی کے طفیل نہیں بلکہ حقیقی ایمان کے طفیل سے کیونکہ زبانی دعوئی والا تو دنیا سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتا ہے مگر جس کو سچا مذہب مل جائے اس کے اخلاق بھی درست ہو جاتے ہیں اور دنیا بھی۔پھر چونکہ خدا تعالیٰ کو سب دنیا پر بادشاہت حاصل ہے اس لئے وہ بچے مذہب کے