خطبات محمود (جلد 17) — Page 453
خطبات محمود ۴۵۳ سال ۱۹۳۶ جو گناہ کو بہت حد تک مٹادے گا۔ہم یہ تو نہیں کہہ سکتے کہ گناہ بالکل مٹ جائے گا کیونکہ یہ بہت مشکل بات ہے مگر بہت حد تک گناہ پر غالب آیا جا سکتا ہے یا اکثر حصہ جماعت میں ایسے لوگوں کا پیدا ہوسکتا ہے جو گناہوں پر غالب آ جائے ورنہ کوئی نہ کوئی گنا ہوگا تو ہر جماعت میں موجود ہوتا ہے جیسے کوئی نہ کوئی مریض یورپ میں بھی ہوتا ہے مگر ہندوستان میں چونکہ مریضوں کی کثرت ہے اس کی لئے ہم کہتے ہیں ہندوستان میں زیادہ بیماریاں ہیں۔یہاں کی اوسط عمر بیس سال ہے اور یورپ والوں کی اوسط عمر پچاس سال ہے اور گو یہ بھی مرتے ہیں اور وہ بھی ، اور یہ بھی بیمار ہوتے ہیں اور وہ بھی لیکن کثرت وقلت کے فرق کی وجہ سے یورپ کو ہندوستان سے بہتر سمجھا جاتا ہے۔غرض یہ فرق جماعت میں ہوسکتا ہے اور بہت سا حصہ ایسا پیدا کیا جاسکتا ہے جو نیک ہو مگر یہ اسی صورت میں ہوسکتا ہے جب ہماری جماعت کے علماء باہر جا کر وفات مسیح پر زور دینے کی طرح جماعت کی لکی اصلاح کی بھی کوشش کریں اور یہ بتابتا کر اصلاح کریں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے انہیں کس قدر برکات سے حصہ دیا ہے۔آپ پر کس طرح الہامات نازل ہوتے تھے، کس طرح اللہ تعالیٰ سے آپ محبت کرتے تھے اور پھر اللہ تعالیٰ آپ کی تائید کیلئے کیسے کیسے عظیم الشان نشان ظاہر فرماتا تھا اور آپ کیلئے کس طرح اپنی غیرت کا اظہار کیا کرتا تھا اور یہ کہ یہ باتیں انہیں بھی حاصل ہوسکتی ہیں۔اگر یہ باتیں بار بار جماعت کے سامنے بیان کی جائیں تو یقیناً اس میں طاقت پیدا ہوسکتی ہے اور اس کی قوتِ ارادی ایسی مضبوط ہوسکتی ہے کہ وہ ہزاروں گناہوں پر غالب آجائے اور ان سے ہمیشہ کیلئے محفوظ رہے۔دوسری چیز علمی قوت ہے جو اصلاح اعمال میں ممد ہوتی ہے۔اس کے متعلق میں بتا چکا ہے ہوں کہ غلطی سے یہ سمجھ لیا جاتا ہے کہ کچھ گناہ بڑے ہوتے ہیں اور کچھ چھوٹے۔اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے ہے کہ جن گنا ہوں کو وہ چھوٹا سمجھتے ہیں وہ ان کے قلوب میں راسخ ہوتے چلے جاتے ہیں۔اگر ہمارے علماء اس بات پر زور دیں اور لوگوں کو بتایا کریں کہ کوئی گناہ چھوٹا نہیں ہوتا ہر گناہ خطر ناک زہر ہے تو جماعت کی بہت کچھ اصلاح ہو جائے مگر جہاں تک مجھے معلوم ہے سال بھر میں ایک مولوی ایک لیکچر بھی اس قسم کا نہیں دیتا اگر وہ اس قسم کے لیکچر دیتے تو یقینا لوگوں کی اصلاح ہو جاتی۔خصوصیت سے اس قسم کے پیچروں کی کالجوں ،سکولوں اور مدرسوں میں ضرورت ہوا کرتی