خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 440 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 440

خطبات محمود ۴۴۰ سال ۱۹۳۶ گا۔پہلی دفعہ اس کے ہاتھ کو جھٹکا لگنا اور اس کا اس چیز کونہ اُٹھا سکنا اس لئے نہ تھا کہ اس میں وہ چیز اٹھانے کی طاقت نہ تھی۔طاقت تو اُس میں اس سے بھی زیادہ بوجھ اٹھانے کی تھی جھٹکا اسے اس لئے لگا کہ قوت موازنہ نے غلط اندازہ کر کے دماغ کو کم طاقت بھیجنے کا مشورہ دیا۔اس طرح گناہوں کو مٹانے کی طاقت بھی انسان میں ہوتی ہے لیکن جب گناہ سامنے آتا ہے اور قوت موازنہ کی کہہ دیتی ہے اس گناہ میں کیا حرج ہے یہ تو معمولی گناہ ہے اور دوسری طرف فائدہ اس سے بہت زیادہ ہے تو دماغ اتنی طاقت اس گناہ کو مٹانے کیلئے نہیں بھیجتا جتنی بھیجنی چاہئے اور وہ اس گناہ کا مرتکب ہو جاتا ہے۔اب گو یا اصلاح اعمال کیلئے تین چیزوں کی مضبوطی کی ضرورت ہوئی۔ایک قوت ارادی کی مضبوطی کی ضرورت ہے، ایک علم کی زیادتی کی ضرورت ہے اور ایک قوت عملیہ میں طاقت کا پیدا کرنا بھی ضروری ہے۔علم کی زیادتی بھی درحقیقت قوت ارادی کا ہی حصہ ہوتی ہے کیونکہ علم کی زیادتی کے ساتھ قوت ارادی بڑھ جاتی ہے یا یوں کہو کہ عمل کرنے پر وہ آمادہ ہو جاتی ہے۔خلاصہ یہ کہ اصلاح کیلئے ہمیں تین چیزوں کی ضرورت ہے۔قوت ارادی کی طاقت کہ وہ بڑے بڑ۔کاموں کے کرنے کی اہل ہو ، علم کی زیادتی کہ ہماری قوت ارادی اپنی ذمہ داری کو محسوس کرتی رہے اور غفلت میں رہ کر موقع نہ گنوادے، قوت عملیہ کی طاقت کہ ہمارے اعضاء ہمارے ارادہ کے تابع چلیں اور اس کے حکم کو ماننے سے انکار نہ کریں۔جب ہماری قوت ارادی مضبوط ہو گی وہ ایک زبردست افسر کی طرح اپنی طاقت اور قوت کے ساتھ جسم کی کمزوریوں پر غالب آ کر اسے اپنے منشاء کے مطابق کام کرنے پر مجبور کر دے گی ، جب علم صحیح ہوگا ہم ان ناکامیوں سے محفوظ ہو جائیں گے جو قوتِ موازنہ کی غلطیوں کی وجہ سے پیدا ہوتی ہیں کہ وہ ایک اندازہ کام کا لگاتی ہے لیکن وہ اندازہ غلط ہوتا ہے اور ناکامی کا منہ دیکھنا پڑتا ہے اور بعض دفعہ اصلاح کا موقع ہاتھ سے نکل جاتا ہے اور اس کام کیلئے دوبارہ کوشش فضول ہو جاتی ہے اور بعض دفعہ عدم علم کی وجہ سے قوت ارادی فیصلہ ہی نہیں کر سکتی کہ اسے کیا کرنا چاہئے ، اسی طرح جب قوت عمل یہ مضبوط ہوگی تو وہ قوت ارادی کے ادنیٰ سے ادنی اشارہ کو بھی قبول کرے گی جیسے کہ ایک پچست آدمی کو جب کوئی کام کہا جاتا ہے تو وہ فوراً کھڑا ہو جاتا ہے اور ایک ست آدمی کو کہا جاتا ہے کہ وہ اسی معمولی سے کام کو