خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 432 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 432

خطبات محمود ۴۳۲ سال ۱۹۳۶ کے متعلق ہماری روکیں عقائد کی روکوں سے زیادہ سخت ہیں اور وہ میں بیان کر چکا ہوں کہ کیا ہیں۔اب ہمیں یہ سوچنا ہے کہ ان روکوں کو دور کرنے کیلئے ہمیں کیا کرنا چاہئے۔اگر ہم دوسروں پر غالب آنا چاہتے ہیں تو ہمیں پہلے اپنی اصلاح کرنی چاہئے اس سے ہمارے اندر ایسی قوت پیدا ہو جائے گی کہ دوسرں کی اصلاح کر سکیں۔دوسروں سے نقل کرانے کیلئے بہادری اور استقلال کی ضرورت ہوتی ہے۔جب کوئی قوم مضبوطی سے ان چیزوں پر قائم ہو جاتی ہے تو دوسرے خود بخود اُس سے مرعوب ہونے لگتے ہیں اور پھر اس کی نقل شروع کر دیتے ہیں۔جب دنیا میں لوگ بُری سے بُری باتوں کی نقل کرتے ہیں تو کوئی وجہ نہیں کہ اچھی باتوں کی نہ کریں۔اب انگریزوں میں ناچ کا رواج ہے مگر پہلے اُسے بُرا سمجھا جاتا تھا مگر آہستہ آہستہ لوگوں نے اسے اختیار کرنا شروع کیا۔پہلے پہلے عورت اور مرد ہاتھ پکڑ کرنا چتے تھے، پھر سینہ کی طرف سینہ کر کے، پھر یہ سلسلہ ترقی کی کر کے فاصلہ تین انگلی تک آ گیا اور اب بہت جگہ پر یہ بھی اُڑتا جاتا ہے۔تو جس چیز کو بہادری اور استقلال سے قائم رکھا جاتا ہے لوگ اس کی نقل کرنے لگ جاتے ہیں۔ملکہ الزبتھ کے زمانہ میں جب پہلے پہل داڑھیاں منڈوانے کا حکم دیا گیا تو بعض درباریوں نے اپنے عہدے ترک کرنے اور دربار سے نکلنا منظور کر لیا مگر داڑھیاں منڈوانے پر رضامند نہ ہوئے مگر آج کوئی داڑھی رکھنا پسند نہیں کرتا۔تو ہر چیز کے بدلنے سے پہلے ایک طاقت کی ضرورت ہوتی ہے جب لوگ اسے پیدا کر لیتے ہیں تو دوسرے ان کی نقل شروع کر دیتے ہیں اور جب تک وہ پیدا نہ ہو نقل کرانا دشوار ہوتا ہے اور ہم نے اپنے اندر اسی طاقت کو پیدا کرنا ہے مگر اس کے رستہ میں بہت سی روکیں ہیں جن کے مقابلہ کیلئے ہم نے قواعد تجویز کرنے ہیں۔اس کیلئے ہمیں اپنے نفسوں کی قربانی اور ایک ماحول پیدا کرنے کی ضرورت ہے اور جب تک یہ چیزیں ہمیں حاصل نہ ہوں گی ہم کامیاب نہیں ہو سکتے یہ چیزیں کس طرح حاصل ہو سکتی ہیں اس کے متعلق تفصیلی طور پر تو میں ابھی بیان نہیں کر سکتا کیونکہ وہ تحریک جدید کا دوسرا حصہ ہے اور اس کے بیان کرنے سے پہلے ضروری ہے کہ پہلا حصہ پورا ہو جائے۔جب تک پہلا امتحان پاس نہ کر لیا جائے دوسرے کی طرف قدم اُٹھانا کبھی مفید نہیں ہوسکتا۔لیکن میں نے جماعت کو بارہا توجہ دلائی ہے کہ وہ ان مشکلات پر اور ویسی ہی دوسری مشکلات پر جو ہمارے سامنے آئیں غور کرے کہ ان کا کیا علاج ہے وہی علاج ہماری کامیابی کا ،