خطبات محمود (جلد 17) — Page 415
خطبات محمود ۴۱۵ سال ۱۹۳۶ ہیں۔اسی طرح بعض ہندو اس بات پر ناراض ہوتے ہیں کہ حضرت کرشن کو نبی کیوں کہا جاتا ہے وہ تو اوتار ہیں۔پس اس نجاست اور طہارت کا سلسلہ کہیں ختم نہیں ہوتا اس لئے اس بحث میں پڑ کر فیصلہ کی خواہش ایک ایسا طول امل ہے کہ اس سے کچھ فائدہ نہیں ہو سکتا اس لئے اس بحث میں میں نہیں پڑتا اور اس کے دوسرے حصہ کو لیتا ہوں کہ آیا وہ نجاست و طہارت جو دنیا میں انسان کے ساتھ لگی ہوتی ہے قبر میں بھی ساتھ جاتی ہے۔سویا درکھنا چاہئے کہ بعض جذباتی چیزیں ہوتی ہیں جو جذبات کی حد پر جا کر رہ جاتی ہیں انہیں حقیقت کی انتہاء تک ہم نہیں لے جاسکتے۔احرار کا نجاست اور طہارت کا دعوی ایسا ہی ہے جیسے کہتے ہیں کہ کوئی سیڈ سفر پر روانہ ہوا تو جیسا کہ پرانے زمانہ میں قاعدہ تھا میراثی خدمت گزاری کیلئے ساتھ تھا ایک جگہ وہ رات کو پہنچے اور سرائے میں گئے وہاں جا کر معلوم ہوا کہ سب چار پائیاں ہے ڑکی ہوئی ہیں۔ادھر سخت بارش کی وجہ سے کیچڑ بہت تھی۔میراثی نے سخت محنت اور جستجو سے ایک چار پائی مہیا کی اور لا کر اسے سید صاحب کیلئے بچھا دیا۔سید صاحب اس پر بیٹھ گئے اور پائنتی کی طرف میراثی بھی سکڑ کر بیٹھ گیا۔اس پر سید صاحب غصہ میں آگئے اور لال پیلے ہو کر کہنے لگے کہ بے حیا! تجھے شرم نہیں آتی ہمارے برابر بیٹھتا ہے۔میراثی غریب آدمی تھا ڈر گیا اور عرض کیا حضور غلطی ہوگئی پھر ایسا نہ ہوگا اور نیچے زمین پر کیچڑ میں بیٹھ گیا۔دوسرے دن پھر وہ ایک سرائے میں پہنچے اور اتفاق سے وہاں بھی کوئی چار پائی فارغ نہ تھی۔میراثی نے تلاش بہت کی مگر ایک چار پائی بھی نہ مل سکی آخر وہ گھنٹہ آدھ گھنٹہ کے بعد ہاتھ میں پھاوڑہ لئے ہوئے داخل ہوا اور بغیر کچھ کہے سنے زمین کھود نے لگ گیا۔سید صاحب نے دریافت کیا کہ کیا بات ہے؟ تو اس نے کہا حضور ! چار پائی تو ملی نہیں اس لئے میں اپنے لئے جگہ بناتا ہوں۔سید صاحب نے پوچھا اس کا مطلب؟ تو میراثی نے جواب دیا کہ آپ تو زمین پر بیٹھیں گے اور میں اپنے لئے گڑھا کھودتا ہوں تا برابری نہ ہو جائے کیونکہ میں آپ کے برا بر تو بیٹھ نہیں سکتا۔یہ مثال زبر دست اور زیر دست کی ہے۔دوسرے مسلمان چونکہ تعداد میں زیادہ احمدیوں پر اسی طرح حکومت کرنا چاہتے ہیں۔قادیان میں ان کی اقلیت ہرگز انہیں اقلیت نہیں بناتی کیونکہ اقلیت سیاسی حلقہ کے لحاظ سے ہوتی ہے نہ کہ مختلف شہروں یا قصبوں کے لحاظ سے۔پس وہ