خطبات محمود (جلد 17) — Page 414
خطبات محمود ۴۱۴ سال ۱۹۳۶ ہوسکتا ہے کیونکہ اس قبرستان کی زمین ہمارے آباء کا عطیہ ہے مگر ہمارا یہ طریق نہیں کہ شرارت پر آمادہ ہوں اور اس قسم کا کوئی سوال اُٹھا ئیں۔پس دوسروں کو اس قسم کا کوئی سوال حل کرنے کا کوئی حق نہیں کیونکہ اس زمین کے مالک ہم ہیں پس اگر کوئی سوال اُٹھ سکتا ہے کہ اس میں دوسرے دفن نہ ہوں تو ہماری طرف سے اُٹھ سکتا ہے مگر نہ صرف یہ کہ ہم ایسے طریق کو نا پسند کرتے ہیں بلکہ جیسا کہ میں نے گزشتہ جمعہ کے خطبہ میں اعلان کیا تھا اگر یہ قبرستان ختم ہو جائے اور ہمارے مخالفوں کے پاس مُردے دفن کرنے کیلئے جگہ نہ رہے تو میں انہیں اپنے پاس سے زمین دے دوں گا اور میں نہیں سمجھ سکتا کہ اس پیشکش کے بعد بھی مقامی باشندوں کو کوئی اعتراض باقی رہے گا مگر مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ میرے اس صلح و آشتی کے پیغام کا نتیجہ بجائے اچھا نکلنے کے اور بھی بُرا نکلا ہے یعنی بجائے اس کے کہ وہ میری اس پیشکش پر مطمئن ہوتے اور تسلی پا جاتے یہاں بعض جلسے کئے گئے ہیں جن میں بعض مقامی باشندوں اور بعض احرار کے باہر سے بھیجے ہوئے آدمیوں کی طرف سے یہ سوال اُٹھایا گیا ہے کہ احمدی نجس ہیں اور ان کے نجس اجسام کے ساتھ ہمارے پاک جسم جمع نہیں ہو سکتے۔گالیاں دینا آسان کام ہے اور جن کی طبیعت میں شرافت نہیں ہوتی وہ گالیاں دے لیتے ہیں پس ان گالیوں کی میں چنداں پرواہ نہیں کرتا۔نجس یا نا پاک کہہ لینا انسان کے اپنے اختیار میں ہے خدا تعالیٰ نے زبان دی ہے مگر اسی زبان سے بعض لوگ خدا کو گالیاں دے لیتے ہیں۔پس جو زبان اپنے پیدا کرنے والے کو گالیاں دے سکتی ہے وہ اگر میرے یا میرے باپ دادا کے احسانات یا جماعت کی مصالحانہ تدابیر و پیشکش کو ٹھکرا دے تو اس پر کیا شکوہ ہو سکتا ہے اور یہ کوئی اچنبھے کی بات نہیں۔پس ان کے اس رویہ پر مجھے حیرت نہیں ہوئی اس لئے کہ انسان جب بغض میں مبتلاء ہو جاتا ہے تو وہ ایسی باتیں کیا ہی کرتا ہی ہے۔اس وقت میں اس سوال میں نہیں پڑتا کہ نجس وہ لوگ ہیں یا ہم ہیں کیونکہ عقائد کے اختلاف کی وجہ سے اس بارہ میں بھی ضرور اختلاف رہے گا۔ایک مسلمان کے نزدیک عیسائی اور عیسائی کے نزدیک ، مسلمان نجس ہے۔ایک ہندو، مسلمان اور عیسائی کو نجس خیال کرتا ہے اور مسلمان و عیسائی ہند و کو نجس سمجھتے ہیں اور یہ نجاست و پاکیزگی کا سلسلہ اتنا وسیع ہے کہ بعض عیسائی اس بات پر ناراض ہوتے ہیں کہ حضرت عیسی علیہ السلام کو نبی کیوں کہا جاتا ہے یہ ان کی ہتک ہے کیونکہ وہ خدا کے۔