خطبات محمود (جلد 17) — Page 381
خطبات محمود ۳۸۱ سال ۱۹۳۶ء جب وہ دکاندار یہ کہتا ہے کہ خدا ایک ہے تو اس کے متعلق بار بار اس کے دل میں سوال پیدا نہیں کی ہوتا ، نہ لالچ کا کوئی سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ کہے کہ خدا ایک نہیں دو ہیں ، دو نہیں تین ہیں لیکن دیانت کے متعلق دن میں پندرہ ہیں دفعہ اس کے سامنے سوال آجاتا ہے۔ایک شخص اس کے پاس آتا ہے اور کہتا ہے مجھے چار آنے کی مصری دو۔معا اُسے خیال آتا ہے کہ میں اسے چار آنے کی مصری دوں یا پونے چار آنے کی دوں۔اسے کیا پتہ کہ چار آنے کی مصری کتنی آتی ہے۔اس کے بعد ایک اور شخص آتا ہے اور کہتا ہے مجھے آٹھ آنے کی مصری دو۔اُس وقت پھر ا سے خیال آتا ہے کہ میں اسے آٹھ آنے کی مصری دوں یا ساڑھے سات آنے کی دوں اسے کیا پتہ کہ میں نے اسے دو پیسے کی مصری کم دی ہے۔وہ جاتا ہے تو ایک اور شخص آتا ہے اور کہتا ہے مجھے گرم مصالحہ دینا۔یہ پھر سوچتا ہے کہ میں وزن میں اسے گرم مصالحہ کم دوں یا نہ دوں یا کیوں نہ اسے رڈی مصالحہ دے دوں اس طرح گرم مصالحہ میں سے مجھے دمڑی یا دھیلا بیچ جائے گا۔اسی طرح کوئی آٹا لینے آتا ہے، کوئی آلو لینے آتا ہے، کوئی تیل لینے آتا ہے اور ہر گاہک کے آنے پر اس کے دل میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ میں بددیانتی کروں یا نہ کروں؟ لیکن یہ عقیدہ رکھنے کے بعد کہ خدا تعالیٰ ایک ہے اس کے متعلق بار بار اس کے سامنے سوال نہیں آتا۔یا مثلاً جھوٹ بولنے کی عادت ہے جتنی دفعہ کوئی دوست اُس سے ملتا ہے اور وہ اس سے کوئی بات پوچھتا ہے اسے خیال آجاتا ہے کہ جو بات یہ پوچھتا ہے اس میں اس کا اپنا فائدہ ہوگا یا دوسرے کا نقصان ہوگا۔پس میں اپنے فائدہ کی بات کہوں یا نہ کہوں اور اس کو دکھ دینے والی بات زبان سے نکالوں یا نہ نکالوں۔مگر کتنی دفعہ یہ سوال اس کے سامنے آتا ہے کہ خدا ایک ہے یا نہیں؟ محمد ﷺ خدا تعالیٰ کے سچے رسول ہیں یا نہیں ؟ کبھی کوئی مذہبی بحث ہوئی اور کسی نے دریافت کیا تو اور بات ہے ورنہ کئی آدمی ایسے ہوں گے جن سے کئی کئی مہینوں تک کبھی کسی شخص نے یہ نہیں پوچھا ہوگا کہ خدا ایک ہے یا نہیں اور محمد رسول اللہ اس کے بچے رسول ہیں یا نہیں؟ نہ وہ سوال اس رنگ کا ہوتا کہ اس کے نتیجہ میں کوئی قربانی کرنی پڑتی ہو۔پس اوّل تو عقائد کے متعلق کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اور اگر کبھی پیدا ہو تو اس کیلئے کسی قربانی کی ضرورت نہیں ہوتی لیکن عمل کا سوال ہر وقت انسان کے سامنے آتا رہتا ہے۔اذان ہوتی