خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 33 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 33

خطبات محمود ۳۳ سال ۱۹۳۶ء یہ جماعت وفا دار ہے باقی رہی شورشیں سو وہ ہماری موجودگی میں بھی اس جماعت کے خلاف ہوا کرتی تھیں۔مگر ہم تجربہ سے کہہ سکتے ہیں کہ صرف دشمن اس جماعت کو بد نام کرنے کی کوشش کرتا ہی تھا۔پس یہ وسِعُ مَكَانَگ والے الہام پر عمل کرنے کا نتیجہ تھا کہ ہماری جماعت ان حملوں سے محفوظ رہی ورنہ اگر انگلستان میں ہمارا مشن نہ ہوتا ، اگر سندھ ، بمبئی ، یوپی ، بنگال اور بہار وغیرہ میں ہماری جماعتیں نہ ہوتی تو حکومت پنجاب کے چند نمائندوں کی رائے ہمارے حق میں قبول کی جاتی اور ہمیں بہت بڑا نقصان پہنچتا۔اسی طرح پنجاب میں تو احرار ہمیں بدنام کرتے ہیں لیکن اور مختلف صوبے جہاں احرار کا زور نہیں وہاں کے لوگ جب ان باتوں کو سنتے ہیں تو حیران ہو کر کہتے ہیں کہ ان لوگوں کو کیا ہو گیا۔پس توسیع مکانات سے جماعت محفوظ ہو جاتی اور ہر قسم کے حملہ سے بچ جاتی ہے خواہ وہ دینی ہو یا دنیوی۔پھر روحانی لحاظ سے بھی جماعت کی توسیع ضروری ہوتی ہے کیونکہ روحانیت کی بھی ایک رو ہوتی ہے جو بعض ملکوں میں دب جاتی ہے اور بعض میں زور سے چل پڑتی ہے۔پس اگر مختلف ممالک میں جماعتیں نہ ہوں تو اس روحانی رو کے مٹ جانے کا ہر وقت خطرہ رہتا ہے۔مثال کے طور پر دیکھ لو ایک ملک میں غلہ زیادہ ہوتا ہے مگر دوسرے ملک میں اُنہی دنوں قحط پڑا ہوتا ہے۔ایک میں ایک سال کپاس زیادہ ہوتی ہے تو دوسرے میں ماری جاتی ہے۔ایک میں ایک سال کتنا زیادہ ہوتا ہے اور دوسرے ملک میں نہیں ہوتا۔یہی حال روحانی حالتوں کا بھی ہوتا ہے ایک وقت میں ایک ملک میں مخالفت زوروں پر ہوتی ہے مگر دوسرے ملک میں مخالفت نہیں ہوتی۔پس جہاں مخالفت ہوتی ہے وہاں سلسلہ کی ترقی رُک جاتی اور جہاں نہیں ہوتی وہاں ہوتی رہتی ہے۔اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ کسی ملک میں بھی جماعت کی مخالفت ہو رہی ہوا سے مٹنے کا خطرہ نہیں ہوتا کیونکہ وہ باقی ممالک میں ترقی کر رہی ہوتی ہے۔پس روحانی جماعتوں کو ہمیشہ مختلف ملکوں میں اپنی تبلیغ کو پھیلا دینا چاہئے تا اگر ایک جگہ مخالفت ہو تو دوسری جگہ اس کمی کو پورا کیا جا رہا ہو۔جس طرح وہ ای آدمی زیادہ فائدہ میں رہتا ہے جس کے کئی ملکوں میں کھیت ہوں تا اگر ایک ملک میں ایک کھیت کو نقصان پہنچے تو دوسرے ملکوں کے کھیت اُس کی تلافی کر دیں اور اس کے ضرر کو مٹا دیں۔اسی طرح وہی دینی جماعتیں فائدہ میں رہتی ہیں جو مختلف ممالک اور مختلف جگہوں میں پھیلی ہوئی ہوں کیونکہ