خطبات محمود (جلد 17) — Page 32
خطبات محمود ۳۲ سال ۱۹۳۶ء موجودہ وقت میں جو فاصلہ ہے وہ کس طرح طے ہو سکتا تھا ؟ اور حکومت کے وہ افسر جن کے دلوں میں ہماری مخالفت ہے ان کے ظلم سے بچنے کا ہمارے پاس کونسا ذریعہ تھا؟ وہ ذریعہ یہی تھا کہ ہماری جماعت پھیلی ہوئی تھی۔اگر پنجاب کے افسر ہمارے متعلق یہ کہتے کہ یہ جماعت باغی ہے تو یو۔پی، بمبئی ، بہار، بنگال اور دوسرے صوبوں کے افسر کہتے ہیں کہ یہ بالکل جھوٹ ہے۔احمدی جماعت تو حکومت کی وفادار ہے۔چنانچہ ہمارے ماتحت جو احمدی رہتے ہیں انہوں نے کبھی کوئی کی باغیانہ حرکت نہیں کی بلکہ بغاوت سے لوگوں کو روکنا ان کا طریق ہے۔اور اگر پنجاب میں احرار ہمارے متعلق کہتے کہ یہ اسلام کے دشمن ہیں اور ان سے زیادہ بُرا اور کوئی نہیں تو دوسرے صوبوں میں جولوگ بستے وہ کہتے احرار جھوٹ کہتے ہیں احمدیوں سے زیادہ شریف اور نیک تو ہم نے کوئی دیکھا ہی نہیں۔اگر یہ پھیلا ؤ ہماری جماعت کو حاصل نہ ہوتا تو ہماری بدنامی میں کون سی کسر باقی تھی۔احرار اور پنجاب گورنمنٹ کے بعض افسروں نے ہمیں بدنام کرنے کی پوری کوشش کی مگر چونکہ ہماری جماعت کو پھیلا ؤ حاصل تھا اور لوگ ہمارے حالات کو جانتے تھے اس لئے ان کی باتوں نے کوئی اثر نہ لیا۔بلکہ ایک اعلیٰ انگریز افسر سے ہمارے ایک دوست ملے تو وہ کہنے لگے میں حیران ہوں پنجاب کے افسروں کو کیا ہو گیا ہے کہ وہ آپ کی جماعت کے خلاف رپورٹیں کرنے لگ گئے ہیں۔ہم جانتے ہیں کہ آپ وہی کچھ کرتے ہیں جس کے کرنے کا آپ کو مرکز سے حکم ملتا ہے اور آپ لوگ تو حکومت کے بڑے خیر خواہ ہیں پھر میں نہیں سمجھ سکتا پنجاب کے بعض افسروں کو کیا ہو گیا ہے کہ وہ آپ کے خلاف ہیں۔اسی طرح اور بیسیوں افسر ہیں جنہوں نے حکومت پنجاب کے بعض افسروں کے رویہ پر اظہار تعجب کیا۔پھر چونکہ ہماری جماعت انگلستان میں بھی موجود ہے اس لئے جب پنجاب کی خبریں انگلستان جاتی ہیں اور وہ ہمارے آدمیوں کو یکھتے ہیں تو وہاں کے افسر حیران ہوتے ہیں کہ یہ تو ہمارے دوست ہیں ، ہم سے ملنے جلنے والے ہیں ہم جانتے ہیں کہ یہ گورنمنٹ کے بدخواہ نہیں بلکہ وفادار ہیں پھر پنجاب کے بعض افسروں کو کیا ہو گیا کہ وہ ایک پُر امن اور اطاعت شعار جماعت کے خلاف رپورٹیں کرنے لگ گئے ہیں۔چنانچہ کئی ریٹائر ڈ گورنر ہیں جنہوں نے اس قسم کے خیالات کا اظہار کیا اور بعض نے تو اس موقع پر ہیں تحریر میں دی ہیں جو ہمارے پاس موجود ہیں۔ان تحریروں میں انہوں نے لکھا ہے کہ ہم جانتے ہیں کی