خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 310 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 310

خطبات محمود ۳۱۰ سال ۱۹۳۶ء چھریاں پھیر دیں اور کہا کہ تم چیز کیا ہو گوہ کھانے والی بھیڑیں ہی ہو۔مطلب یہ ہے کہ وہ سکتے لوگ مٹا دیئے جاتے ہیں بھیڑیں تو پھر بھی گوہ کھا کر نجاست کو دور کرتی ہیں لیکن نکتا آدمی تو اس سے بھی بدتر ہے۔پھر میں نے توجہ دلائی کہ صلح کرو اور آپس میں محبت پیدا کرو مگر اس کی طرف بھی پوری توجہ نہیں کی جاتی۔غرض جماعت کا ایک معتد بہ حصہ ایسا ہے یہ نہیں کہ ساری جماعت ایسی ہے مگر غرباء میں بھی اور امراء میں بھی ایسے لوگ ہیں جو ہمارے ملک کے اس عام مرض میں مبتلاء ہیں یہ لوگ وعظ مزے لینے کیلئے سنتے ہیں عمل کیلئے نہیں۔اگر عمل کیلئے سنتے تو آج تک ولایت اور سلوک کی کئی منازل طے کر چکے ہوتے مگر وہ مزے کیلئے سنتے یا اخبار میں پڑھتے ہیں۔اگر جماعت ان باتوں کی طرف توجہ کرے جو میں بتاتا ہوں تو یقیناً وہ وعدے پورے ہوں گے جو اللہ تعالیٰ نے کئے ہیں اور جو پہلے انبیاء کی جماعتوں کے متعلق پورے ہوئے۔پہلے ہمیں کہا جاتا تھا کہ ذرا افغانستان جاؤ، ایران جاؤ اور دیکھو وہاں تمہارے ساتھ کیا سلوک ہوتا ہے مگر اب اس نئے انتظام کے ماتحت چونکہ خیال ہو گیا ہے کہ حکومت ہندوستانیوں کو مل جائے گی اس لئے کہا جاتا ہے کہ ملک سے نکال دیں گے مگر قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی فرما دیا ہے کہ انبیاء کے مخالف ہمیشہ ان کو یہ کہتے رہے ہیں کہ لَنُخْرِ جَنَّكُمْ مِنْ اَرْضِنَا یعنی ہمیشہ رسولوں کو ان کی کافر قو میں یہ کہتی رہی ہیں کہ ہم تمہیں اس ملک سے نکال دیں گے ورنہ اپنا دین چھوڑ کر ہمارے ساتھ مل جاؤ۔یہ مماثلت بھی آج احرار نے پوری کر دی ہے۔معلوم ہوتا ہے یہ اپنے جیسے پہلے سب لوگوں سے بڑھے ہوئے ہیں کیونکہ احرار کے منہ سے لَتَعُودُنَّ نہیں نکلا بلکہ صرف یہی کہتے ہیں کہ پکڑ کر سمندر پار کر دیں گے لیکن اللہ تعالیٰ مؤمنوں کو تسلی دیتا ہے اور فرماتا ہے کہ فَأَوْحَى إِلَيْهِمُ رَبُّهُمْ لَنُهْلِكَنَّ الظَّلِمِينَ یعنی یہ کیا نکالیں گے اللہ تعالیٰ ان کو دنیا سے نکال دے گا۔پس اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ پورا ہو کر رہے گا مگر اس کیلئے ضروری ہے کہ پہلے وہ تبدیلی پیدا کرو جو نبیوں کی جماعتوں کے لئے ضروری ہے۔یہ تو ابتدائی زینہ ہے جو میں نے بتایا ہے اسے انتہائی سمجھ کر بیٹھ نہ جاؤ۔اس سے بہت بڑی بڑی قربانیوں کا نقشہ میرے ذہن میں ہے اور اگر اللہ تعالیٰ نے توفیق دی تو اپنے وقت پر میں انہیں بیان کروں گا اور اگر آپ دیانتداری کے ساتھ میری اتباع کریں گے تو جس طرح یہ یقینی بات ہے