خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 281 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 281

خطبات محمود ۲۸۱ سال ۱۹۳۶ غرض صدر انجمن احمدیہ کی طرف سے کوئی تحریک ہو وہ انہی اغراض کیلئے سمجھی جاتی ہے حالانکہ ان نادانوں کو معلوم نہیں کہ صدر انجمن احمدیہ کا ایک ایک پیسہ رجسٹروں میں درج ہوتا ہے۔انہوں نے ی غالباً صدر انجمن احمدیہ کی وصولی چندہ کو اپنے چندوں کی طرح سمجھا ہوا ہے۔ان کا طریق تو یہ ہے که مثلاً مولوی عطاء اللہ صاحب کھڑے ہو گئے اور اُنہوں نے لوگوں سے کہنا شروع کر دیا کہ چندہ لاؤ ہم زردہ کھائیں گے ، ہم پلاؤ کھائیں گے، ہم فرسٹ اور سیکنڈ کلاس میں سفر کریں گے مگر حساب نہیں دیں گے۔لوگوں نے سمجھا بھلا یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ ہم چندہ کا حساب مانگیں تو یہ نہ دیں یہ دل لگی کر رہے ہیں۔انہوں نے چندہ دے دیا مگر بعد میں جب لوگوں نے حساب مانگا تو کہہ دیا ہم نے نہیں کہا تھا کہ ہم چندہ لیں گے مگر حساب نہیں دیں گے۔ہم تو پہلے ہی کہتے تھے کہ ہم چندہ لے کر پلاؤ زردہ کھائیں گے اور فرسٹ اور سیکنڈ کلاس میں سفر کریں گے، موٹروں پر سوار ہوں گے مگر حساب نہیں دیں گے اب تم حساب کس طرح لے سکتے ہو۔پس انہوں نے خیال کیا کہ شاید ی ہمارے چندے بھی ان کے چندوں کی طرح آتے اور ذاتی ضروریات میں خرچ ہو جاتے ہیں۔حالانکہ ہمارے چندے تو ایسی احتیاط سے رجسٹروں میں درج کئے جاتے ہیں کہ بعض دفعہ چند پیسوں کیلئے دو دو تین مہینہ تک رجسٹروں کی پڑتال کی جاتی اور حساب کی چھان بین ہوتی رہتی ہے۔لکھنے والا لکھتا ہے کہ میں نے فلاں دن اتنا چندہ بھیجا مجھے مقامی رسید مل گئی ہے مگر مرکزی حساب کی میں درج نہیں ہوا۔یا ڈاک خانہ کی طرف سے تو روپوں کے پہنچنے کی رسید مل گئی مگر دفتر کی طرف سے نہیں ملی اس پر دفاتر کی معرفت تحقیق کرائی جاتی ہے اور جب چندہ بھیجنے والے کی تسلی نہ ہو تو وہ لکھتے ہیں اور میں تحقیقات کرتا ہوں اور اُس وقت تک نہیں چھوڑتا جب تک حساب صاف نہ ہو جائے اور جو الجھن پیدا ہوئی ہو وہ دُور نہ ہو جائے۔تو چونکہ وہ ہمارے حالات کو نہیں جانتے اس کے لئے اپنے اوپر قیاس کر لیتے ہیں۔ان کی مثال بالکل اس زمیندار کی سی ہے جس کے متعلق کہتے ہیں کہ اس کے قریب چند نوجوان بیٹھے آپس میں باتیں کر رہے تھے کہ ملکہ وکٹوریہ کیا کھاتی ہوگی ؟ وہ چونکہ شہروں میں بھی پھر چکے تھے اس لئے ان میں سے کوئی کہتا پلاؤ کھاتی ہوگی ، کوئی کہتا زردہ کھاتی ہوگی ، کوئی کہتا متنجن کھاتی ہوگی ، اسی طرح ہر ایک نے جس چیز کو وہ زیادہ پسند کرتا تھا اس کا نام لے کر کہنا شروع کردیا