خطبات محمود (جلد 17) — Page 277
خطبات محمود ۲۷۷ سال ۱۹۳۶ جھوٹ بول کر تسلیم کر لیا ہے کہ ان کے بھائی بندا اور ہم قوم گاؤ دی لے اور احمق ہیں وہ جو کچھ کہیں گے وہ اُسے مان لیں گے خواہ وہ بات معقولیت سے کس قدر دور ہو اور کبھی اس پر غور نہیں کریں گے۔مگر کیا تعجب کی بات نہیں کہ ایک طرف تو یہ کہا جاتا ہے کہ قادیان کے لوگوں کو کنگال کر دیا ، ان کا تمام مال، ان کی تمام املاک لوٹ لیں، وہ فاقوں مر رہے ہیں اور ان کا کوئی پُرسانِ حال نہیں اور دوسری طرف جب ان کی تمام دولت میرے پاس آجاتی ہے اور میں انہیں اچھی لوٹ لیتا ہوں تو میری جوان بیٹیاں ان کے گھروں پر مانگنے جاتی ہیں۔اگر یہ میچ ہے کہ مال و دولت لگا دینے کی وجہ ی سے قادیان کے لوگ کنگال ہو گئے ہیں اور ان کی دولت میں نے کوٹ لی ہے تو پھر میری لڑکیوں کی کے متعلق یہ کہنا کہ وہ ان کنگالوں کے گھروں پر مانگنے جاتے ہیں صریح طور پر خلاف عقل بات نہیں تو اور کیا ہے۔ہمارے ملک میں مثل مشہور ہے کہ کوئی میراثی تھا اس کے گھر رات کو چور آیا اس نے کی کمرے میں اِدھر اُدھر تلاش کی مگر کوئی چیز نہ ملی۔جب سب طرف سے مایوس ہو گیا اور اُسے یہ ڈر بھی پیدا ہوا کہ کوئی جاگ نہ اُٹھے اور میں پکڑا جاؤں تو اس نے جلدی جلدی مکان میں گھومنا شروع کیا۔اتفاقاً ایک جگہ روشندان میں سے چھن چھن کر چاندنی پڑ رہی تھی اُس نے سمجھا کہ یہ آتا ہے ہے جلدی میں اُس نے زمین پر چادر پھیلا دی مگر جب چاندنی کو آٹا سمجھ کر سمیٹنا چاہا تو اس کے دونوں ہاتھ خالی کے خالی آپس میں مل گئے۔اسی دوران میں اتفاقا میراثی کی آنکھ بھی کھل چکی تھی تھی اور وہ سب نظارہ بستر پر لیٹے ہوئے دیکھ رہا تھا جب اس چور نے آٹا سمجھ کر اسے اکٹھا کرنا چاہا اور دونوں ہاتھ خالی مل گئے تو میراثی ہنس کر کہنے لگا ” جمان ایتھے تے دن نوں کچھ نہیں لبھدا تو رات کی نوں کی لبھدا ہیں۔یعنی میرے آقا! اس گھر میں تو دن کو بھی کچھ نظر نہیں آتا آپ رات کو یہاں کیا ہے تلاش کر رہے ہیں۔تو ایک طرف احرار کی طرف سے یہ کہا جاتا ہے کہ میں نے لوگوں کو لوٹ لیا اور ان کے مال ہضم کر لئے کنگال اور فقیر بنا دیا وہ بھو کے مرتے ہیں مگر انہیں کوئی نہیں پوچھتا اور دوسری طرف کہا جاتا ہے میری جوان بیٹیاں قادیان میں گھر گھر لوگوں سے مانگتی پھرتی ہیں حالانکہ جب بقول ان کے میں نے تو لوگوں کو لوٹ لیا ہے پھر میری بیٹیاں ان کنگالوں کے گھروں میں کچھ مانگنے کس طرح جاسکتی ہیں۔مگر اس تضاد اور اختلاف کی انہیں کوئی پرواہ نہیں ان کا مقصد محض