خطبات محمود (جلد 17) — Page 233
خطبات محمود ۲۳۳ سال ۱۹۳۶ء وائسرائے ، کسی گورنر اور کسی وزیر کے سامنے اُسے رکھ دو وہ تسلیم کرے گا کہ حکومت کو مذہب میں دخل نہیں دینا چاہئے۔سو ہم تسلیم کرتے ہیں کہ حکومت کی فرمانبرداری ضروری ہے مگر یہ نہیں کہ وہ مذہب میں دست اندازی کرے تو پھر بھی ہم اس کی فرمانبرداری کرتے جائیں۔وہ کہے عیسائی کی ہو جاؤ تو ہم عیسائی ہو جائیں۔اگر کوئی حکومت مسلمانوں کو عیسائی ہونے پر مجبور کرے تو یقیناً مسلمانوں کا حق ہوگا کہ وہ اس کا مقابلہ کریں خواہ زندہ رہیں یا مر جائیں مگر ایسے حکم کو کسی صورت میں نہ مانیں۔اگر میرا یہ خیال غلط ہے تو کوئی بڑے سے بڑا افسر اس کے غلط ہونے کا اعلان کی کر دے۔مگر میں جانتا ہوں کہ کوئی ایسا اعلان نہیں کرے گا کیونکہ اس سے سب متفق ہیں۔پس کی قربانی کے وقت ہمیشہ دیکھا جائے گا کہ کتنی قربانی چاہی جاتی ہے اور جس کیلئے چاہی جاتی ہے اس کی کیا قیمت ہے۔اگر شخصی تذلیل کا سوال ہوا اور کسی فیصلہ میں کسی شخص کو جھوٹا کہا گیا ہو تو اُسے گوارا کیا جاسکتا ہے اور اگر ہائی کورٹ کے فیصلہ کے بعد بھی اُسے جھوٹا ہی قرار دیا جائے تو جو لوگ جانتے ہیں کہ وہ سچا ہے وہ بھی اُسے یہی مشورہ دیں گے کہ اب خاموش ہو ر ہو۔آخر جج بھی آدمی ہے اور کہیں جا کر یہ جھگڑ ا ختم ہونا ہی تھا تمہارے دوست جانتے ہیں کہ تم سچے ہو لیکن اگر تذلیل انسان کی نہیں بلکہ مذہب کی ہو اور مذہب بھی وہ جو لوگوں کو بلاتا ہے کہ آؤ اور مجھے قبول کرو۔تو ای دونوں باتوں میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔انفرادی تذلیل پر باوجود اس شخص کے سچا ہونے کے ہم زور ڈال سکتے ہیں کہ ذلت برداشت کر لو لیکن مذہب کی تذلیل اگر عدالت کرتی ہے تو اس کی تھی حالت جدا گانہ ہے۔پھر اگر وہ تذلیل اس مذہب کے ماننے والوں کے کسی فعل کی وجہ سے ہو تو کہہ سکتے ہیں کہ تمہارا اپنا قصور ہے۔اگر ہم کوئی مقدمہ عدالت میں لے جاتے ہیں مگر اس مقدمہ میں تو ی ہم نہ مدعی ہیں نہ مد عاعلیہ ہمیں اپنی بریت پیش کرنے کا بھی موقعہ نہ تھا۔قانون ہمیں اس سے بالکل بے دخل رکھتا ہے مگر فیصلہ کا سارا زور ہمارے خلاف ہے۔پس اس کی ذمہ داری بھی ہم پر نہیں بلکہ حکومت پر ہے یا مولوی عطاء اللہ صاحب پر۔اور اس کے نتیجہ میں اگر کوئی ضرر کسی کو پہنچتا ہے تو ان کے دونوں میں سے ہی کسی کو پہنچنا چاہئے ہم کیوں خواہ مخواہ اس کا شکار ہوں۔اس فیصلہ میں ایسے امور زیر بحث لائے گئے ہیں کہ ہائی کورٹ نے صاف کہا ہے کہ ان کا زیر بحث لا نا نا جائز تھا۔ہمیں اس سے بحث نہیں کہ ایسا دیانتداری سے کیا گیا یا بددیانتی سے۔دیکھنا یہ ہے کہ اس کا اثر ہم پر کیوں۔