خطبات محمود (جلد 17) — Page 193
خطبات محمود ۱۹۳ سال ۱۹۳۶ء ہوئے۔ان کی گواہی ایسی تھی کہ خیال کیا جا سکتا تھا کہ شاید عدالت کے دل پر اس گواہی کی وجہ سے احمدیوں کے حق میں اثر پڑے گا اس پر حاکم ضلع نے مسل خود طلب کر لی۔چنانچہ جب مقدمہ کی سماعت میں دیر ہوئی اور ہمارے آدمیوں نے وجہ پوچھی تو عدالت نے بتایا کہ مسل ضلع میں منگوالی گئی ہے ہے۔اس کے بعد معلوم ہوا کہ حاکم ضلع نے ان گواہوں کو اپنے پاس طلب کیا اور زبر دست افواہی ہے کہ ان سے ایک افسر نے کہا کہ ہم نے معتبر ذریعہ سے سنا ہے کہ تم کو احمدیوں کے خلیفہ نے بلا کر پچاس روپے دے کر گواہی سے پھر الیا ہے۔یہ بھی کہا جاتا ہے کہ جب وہ گواہ بالا افسروں کے سامنے پیش ہوئے تو ایک پولیس کے افسر نے انہیں علیحدگی میں کہا کہ تم کہہ دو کہ خلیفہ صاحب نے پچاس روپیہ ہمیں رشوت دے کر کہا تھا کہ اس رنگ میں گواہی دو اس طرح تم لوگ تکلیف سے بچ جاؤ گے۔ނ میرا پہلا جواب تو س کے متعلق یہ ہے کہ لَعْنَةُ اللهِ عَلَى الْكَاذِبِينَ کہ جھوٹے پر خدا تعالیٰ کی لعنت ہوا اور دوسرا جواب یہ ہے کہ اگر مجھے ذرا بھی اس واقعہ کی تصدیق ہوگئی تو میں اللہ تعالیٰ کے کی فضل اور اُس کی مدد سے اس فریب کو ظاہر کر کے چھوڑوں گا جو اس کے پس پردہ کام کر رہا ہے۔اس قسم کی تلقین کی صرف یہ غرض ہو سکتی ہے کہ مجھے بدنام کیا جائے مگر وہ یا درکھیں وہ مجھے بدنام نہیں کر سکتے کیونکہ جن لوگوں کا مجھ سے تعلق ہے وہ مجھے جانتے ہیں ، وہ میرے حالات اور خصائل۔واقف ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ اگر سارے برٹش انڈیا کے افسرمل کر بھی ایک بات کہیں اور اس کے مقابلہ میں میں ایک بات کہوں تو سچی وہی بات ہوگی جو میں کہوں گا۔پھر قادیان کا بچہ بچہ جانتا ہے کہ یہ بات بالکل جھوٹ ہے۔میں نے ان سکھ گواہوں کے گل ہی نام سنے ہیں اور میں نے آر تک انہیں کبھی دیکھا نہیں اور نہ یاد ہے کہ وہ کبھی مجھ سے ملے ہوں مگر کیا وہ ان چالبازیوں صداقت پر پردہ ڈال سکتے ہیں؟ ادھر دوران مقدمہ میں ہی ڈپٹی کمشنر صاحب کا مسل منگوا لینا، اُدھر ایک افسر کا یہ بات کہنا کہ جماعت احمدیہ کے قلوب میں افسروں کے متعلق شکوک پیدا کرنے کیلئے تی بہت کافی ہے۔آخر ایک مقدمہ جب عدالت میں چل رہا ہو تو پہلے عدالت کو اس کا موقع ملنا چاہئے کہ وہ فیصلہ کرے کہ آیا گواہوں نے جھوٹ بولا ہے یا پولیس نے جھوٹ بولا ہے؟ یہ کیا کہ عدالت کے فیصلہ سے پہلے ہی ایگزیکٹو دخل اندازی کرنی شروع کر دے اور بعض افسر اپنایا النا شرور ނ