خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 192 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 192

خطبات محمود ۱۹۲ سال ۱۹۳۶ء یئے گئے مگر انہوں نے اُف نہ کی تم بھی صبر کرو اور ان تکلیفوں سے نہ گھبراؤ ۳۔پس صحا بہ کو رسول کریم ﷺ یہ کہہ سکتے تھے کہ انہوں نے وہ تکلیفیں برداشت نہیں کیں جو پہلی اُمتوں نے کی برداشت کیں تو ہماری جماعت نے تو ابھی صحابہ جیسی قربانیاں بھی نہیں کیں پھر ہم کیوں کی گھبرا جائیں۔ہم تو کہتے ہیں اللہ تعالیٰ کا جو منشاء ہے وہ ہو جائے لیکن گورنمنٹ کیلئے ضروری ہے کہ وہ جو کچھ کہنا چاہتی ہے صفائی سے کہہ دے۔یہ کوئی صحیح طریق نہیں کہ حکام میں سے ایک فریق کچھ چی کہتا جائے اور دوسرا پوشیدہ طور پر کچھ اور کہتا جائے۔جس حکومت کے افسروں میں ہی اتفاق نہ ہو اُس کو نقصان پہنچنا لازمی ہے۔پس اگر حکومت چاہتی ہے تو صاف طور پر کہہ دے کہ آئندہ ملازمتیں احمدیوں کو نہیں ملیں گی تو سوائے ان ملازمتوں کے جو امتحانوں کے ذریعہ سے ملتی ہیں ہم دوسری ملازمتوں کیلئے حکومت کے پاس نہیں جائیں گے اور میں ذمہ لیتا ہوں کہ ہماری جماعت اس پر کوئی شور نہیں مچائے گی اور نہ ہم گورنمنٹ کی نسبت اپنے دل میں کوئی بغض رکھیں گے مگر پوشیدہ اور مخفی کارروائیوں سے ہمارے دلوں کو ضرور تکلیف ہوتی ہے۔چھٹی مثال عیدگاہ کا واقعہ ہے جس میں ہمارے آدمی زمین ہموار کرنے کیلئے گئے تو پولیس نے کدالیں اور ٹوکریاں چھین کر انہیں گرفتار کرنا شروع کر دیا اور کیمرے والوں کے کیمرے چھینی لئے۔اس میں پہلی بات تو یہ ہے کہ عدالت میں ہماری طرف سے درخواست دی گئی کہ ہمیں کیمرے واپس دیئے جائیں کیونکہ اس موقع کے جو فوٹو لئے گئے تھے وہ ہمیں حق بجانب ثابت کرتے ہیں۔مجسٹریٹ نے ہماری درخواست سن کر فیصلہ کیا کہ اگلی تاریخ پر اس کے متعلق فیصلہ کیا جائے گا لیکن جب اگلی تاریخ آتی ہے تو کہہ دیا جاتا ہے کہ ہم نے اپنے طور پر انہیں ڈویلپ کرایا تھا مگر فلم اندر سے خالی نکلے حالانکہ اگر وہ ہمیں کیمرے واپس کرنا نہیں چاہتے تھے تو ان کا فرض تھا کہ وہ پہلی تاریخ پر ہی فیصلہ کر دیتے کہ ہم نہیں دیتے تا ہمیں ان کے ارادوں کا علم ہو جاتا اور ہم اپنے ہی حق کے حصول کیلئے ہائی کورٹ میں اپیل کر سکتے مگر ہمیں تو یہ کہا گیا کہ اگلی تاریخ کو اس درخواست کا کی فیصلہ کیا جائے گا اور درمیان میں انہیں خود بخود ڈویلپ کرالیا گیا اور کہہ دیا گیا کہ وہ اندر سے خالی نکلے حالانکہ فلم کا خالی کرنا کیا مشکل ہوتا ہے ذرا دھوپ لگا دی تو تصویر اڑ جاتی ہے۔اس کے بعد وہ مقدمہ ایک دوسرے مجسٹریٹ کے سامنے پیش ہوا اور پولیس کی طرف سے دو سکھ گواہ پیش