خطبات محمود (جلد 17) — Page 130
خطبات محمود سال ۱۹۳۶ء کام ہوا کرتے ہیں۔اگر کوئی شخص کا نا ہو اور وہ کسی دوسرے سو جا کھے کی آنکھ نکال کر اپنا کا نا اپنی دور کرنا چاہے تو سارے لوگ اُسے بیوقوف ہی سمجھیں گے کیونکہ دوسرے کی آنکھ نکال کر اُس کا کا نا پن دور نہیں ہوسکتا۔اسی طرح اگر کوئی بیوقوف یہ سمجھے کہ چند انگریزوں کو مار کر یا فتنہ وفساد پیدا کر کے وہ اسلامی حکومت قائم کر سکے گا تو وہ حماقت کا ارتکاب کرتا ہے۔اور اگر فرض کرو وہ چند انگریزوں کو نہیں بلکہ تمام انگریزوں پر حملہ کرتا ہے اور انگریز اس حملہ کی تاب نہ لا کر ملک چھوڑ کر بھاگ جاتے ہیں تب بھی اسلامی حکومت کس طرح قائم ہوسکتی ہے۔حکومت اگر قائم ہوگئی تو ہندوؤں کی کیونکہ ایک مسلمان کے مقابلہ میں تین ہندو ہیں اور جس طرح مسلمانوں کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اسلامی تہذیب اور اسلامی تمدن اور اسلامی حکومت قائم کرنے کی کوشش کریں اسی طرح کی ہندوؤں کا بھی حق ہے کہ وہ ہندو تہذیب، ہندو تمدن اور ہندو حکومت قائم کریں۔اسی طرح اگر مسلمانوں کو حق ہے کہ وہ انگریزوں کو اس لئے ماریں کہ وہ اسلام میں داخل نہیں اور انہیں اپنے ملک سے اس لئے نکالیں کہ وہ انگریزی حکومت کی بجائے اسلامی حکومت قائم کرنا چاہتے ہیں تو ی یقیناً ہندوؤں کو بھی حق حاصل ہے کہ وہ مسلمانوں کو ماریں اور انہیں اپنے ملک سے نکال کر ہندو ی حکومت قائم کریں اور ایسی صورت میں ہندوؤں کے فعل پر اعتراض کرنا بالکل پاگل پن ہوگا۔جو چیز ہمارے لئے جائز ہے وہ ہمارے غیر کیلئے بھی جائز ہونی چاہئے ورنہ یہ خدا کی تعلیم نہیں ہوگی کہ وہ مسلمانوں کو تو اختیار دے دے کہ وہ اسلامی حکومت کو قائم کرنے کی کوشش کریں لیکن ہندوؤں کو اپنی حکومت قائم کرنے کا اختیار نہ دے۔ایسی تعلیم دینے والا خدا نہیں بلکہ سوتیلا باپ ہوگا جو اپنے بیٹے کی تو پرورش کرتا ہے مگر دوسرے کو گھر سے نکال دیتا ہے۔انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ جس چیز کو ہم اپنا حق قرار دیتے ہوں اُسی کو دوسرے کا حق بھی تسلیم کرنے کیلئے تیار ہیں۔پس یہ طریق بالکل نادرست ہے اور میں ہمیشہ اس کی مخالفت کرتا رہا ہوں لیکن جائز اور پُر امن طریق سے اسلامی حکومت قائم کرنا ہماری دلی خواہش ہے اور میں سمجھتا ہوں ہم میں سے ہر ایک کے دل میں یہ آگ ہونی چاہئے کہ ہم موجودہ طرز حکومت کی بجائے حکومت اسلامی قائم کریں۔یہ طبعی خواہش ہے اور میرے دل میں ہر وقت موجود رہتی ہے اور میں نے اس خواہش سے کبھی انکار نہیں کیا ہاں میرے اور عام لوگوں کے ذرائع میں اختلاف ہے۔میں اسلامی حکومت