خطبات محمود (جلد 17) — Page 129
خطبات محمود ۱۲۹ سال ۱۹۳۶ء کر کے رہیں گے اِنْشَاءَ اللهُ تَعَالٰی۔ہم جس چیز کا انکار کرتے ہیں وہ یہ ہے کہ تلوار اور فتنہ وفساد کے زور سے ہم اسلامی حکومت قائم نہیں کریں گے بلکہ دلوں کو فتح کر کے اسلامی حکومت قائم کی کریں گے۔کیا کوئی خیال کر سکتا ہے کہ اگر آج میرے بس میں یہ ہو کہ میں انگلستان کے تمام لوگوں کو مسلمان بنادوں ، وہاں کے وزراء کو اسلام میں داخل کر دوں اور پارلیمنٹ کے ممبروں کو بھی مسلمان بنا کر وہاں اسلامی حکومت قائم کر دوں تو میں اپنے اس اختیار سے کام لینے سے انکار کروں گا ؟ میں تو ایک منٹ کی بھی دیر نہیں لگاؤں گا اور کوشش کروں گا کہ فوراً ان لوگوں کو مسلمان بنای کر انگلستان میں اسلامی حکومت قائم کر دوں لیکن چونکہ یہ میرے بس کی بات نہیں اس لئے میں کر نہیں سکتا۔ورنہ میں اس بات سے انکار تو نہیں کرتا کہ میرے دل میں یہ خیال ہے اور یقیناً میرے دل کی خواہش ہے کہ ہمارے بادشاہ مسلمان ہو جائیں، وزراء بھی مسلمان ہو جائیں، پارلیمنٹ کے ممبر بھی مسلمان ہو جائیں اور برطانیہ کے تمام باشندے بھی مسلمان ہو جائیں۔اس میں اگر دیر ہے تو اس لئے نہیں کہ میری یہ خواہش نہیں کہ وہ مسلمان ہوں بلکہ اس لئے دیر ہے کہ اُن کو مسلمان کرنا میرے اختیار میں نہیں اور اس وجہ سے وہاں اسلامی حکومت قائم نہیں کی جاسکتی۔ورنہ اسلامی حکومت قائم کرنے کیلئے میرے دل میں تو اتنی زبر دست خواہش ہے کہ اس کا کوئی اندازہ کی ہی نہیں لگا سکتا اور اپنی اس خواہش کا میں نے کبھی انکار نہیں کیا اور اگر میں انکار کروں اور میرے دل میں اسلامی حکومت کے قائم کرنے کی خواہش نہ ہو تو اسلام کے احکام کے وہ حصے پورے کس طرح ہو سکتے ہیں جن کیلئے ایک نظام کی ضرورت ہے۔کیا کوئی شخص پسند کرے گا کہ اُس کا گھر ادھورا ر ہے؟ اگر کوئی شخص اپنے مکان کے متعلق یہ پسند نہیں کر سکتا کہ وہ ادھورا رہے تو خدا تعالیٰ کے گھر کے متعلق وہ یہ امرکب پسند کرے گا۔اس میں کیا شک ہے کہ جب تک تمام دنیا مسلمان نہیں ہوتی اور خود حکومت، اسلامی حکومت نہیں ہو جاتی اُس وقت تک اسلام کی عمارت کافی رہتی ہے اور اپنی عمارت کا کا نا ہونا کون پسند کر سکتا ہے۔جب ہر شخص اپنی عمارت کو مکمل دیکھنا چاہتا ہے تو کب کوئی عقلمند ہم سے یہ امید رکھ سکتا ہے کہ ہم اسلام کی عمارت کو کا نا رکھنا پسند کریں گے۔اگر انگریز عیسائی ہی رہیں، یہودی یہودی ہی رہیں ، ہندو ہندو ہی رہیں تو اسلامی حکومت دنیا میں قائم نہیں ہو سکتی۔ہاں اس کے قائم کرنے کا ایک طریق ہے اور اس طریق کے ذریعہ ہی دنیا میں ہمیشہ