خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 106 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 106

خطبات محمود سال ۱۹۳۶ء نہیں دیکھو گے کہ اُس نے ایک کروڑ روپیہ پیش کر دیا۔لیکن ایک غریب بُڑھیا جس کی آمد کا کوئی ذریعہ نہیں ، جسے فاقے پیش آتے ہیں اور جس کے متعلق تمہیں معلوم ہے کہ شاید اب بھی اسے فاقہ ہے اس نے اگر رات کو باوجود بیماری اور کمزوری کے سوت کا تا اور پھر بازار میں اسے بیچ کر ایک پیسہ لائی اور وہ پیسہ اُس نے خدمت دین کیلئے مجلس میں پیش کر دیا تو گو وہاں نعرے پیدا نہ ہوں لیکن بیسیوں آنکھوں میں ، اُن آنکھوں میں جو روحانیت نما چیزوں کو دیکھنے کی طاقت رکھتی ہیں تم آنسود یکھ لو گے کیونکہ یہ وہ قربانی ہے جس کے ساتھ درد شامل ہے۔اگر اس قسم کی قربانی ایک انسان کے دل میں جو کچی قدردانی کی طاقت نہیں رکھتا درد پیدا کر سکتی ہے تو سمجھ لو کہ اُس عالم الغیب خدا کے حضور میں وہ کس قدر مقبول ہوگی جس کے علم سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں۔یقیناً ہمارا خدا اسے اپنی گود میں بٹھالے گا اور اس کے غمزدہ دل کو تسلی دے گا اور کہے گا مت سمجھ کہ تیری قربانی حقیر ہے میں ہوں جس نے قربانی قبول کرنی ہے اور میں تیری قربانی کو دوسروں کی قربانی پر ترجیح دیتا ہوں۔پس تمہیں خوش ہونا چاہئے کہ تمہارے رب نے تمہیں اپنی دین کی خدمات سے محروم نہیں رکھا۔ہر شخص جو تم میں سے کتنا ہی معذور نہ ہو ایک اتنی قیمتی چیز اپنے پاس رکھتا ہے جس کے مقابلہ میں دنیا کے ہیرے اور جواہرات بھی ماند ہیں۔پس میں تم سے کہتا ہوں کہ اس قیمتی قربانی کو خدا تعالیٰ کے حضور پیش کرو۔ہما را خدا اپنی کتاب میں فرماتا ہے لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ تم مقام ہر حاصل نہیں کر سکتے جب تک اپنی محبوب ترین چیز خدا تعالیٰ کے حضور پیش نہ کرو۔تم روپیہ سے زیادہ اپنے دل کو قیمتی سمجھتے ہو یا نہیں ؟ پس اس کو اپنے ربّ کے آگے پیش کرو اور یا درکھو اس سے دین کی مدد جس رنگ میں ہوگی وہ سونے اور چاندی کے سکوں سے نہیں ہوسکتی۔پچھلے سال میں نے اسی دعا کی تحریک کو زیادہ مضبوط بنانے کیلئے بعض ہفتے مقرر کر دیئے تھے اور روزے رکھنے کی تاکید کی تھی۔تم میں سے کسی کو نظر آیا ہو یا نہ آیا ہو لیکن جن لوگوں کو خدا تعالیٰ نے آنکھیں دی ہیں وہ دیکھ رہے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے انہیں دعاؤں کے نتیجہ میں عظیم الشان تغیرات پیدا کئے۔تمہیں شاید نظر نہ آتا ہو مگر میں تو دیکھ رہا ہوں کہ اٹلی اور ایسے سینیا کی جنگ بھی انہی دعاؤں کے نتیجہ میں ہوئی ہے، جاپان کے فسادات بھی انہی دعاؤں کے نتیجہ میں ہیں اور کوئٹہ کا زلزلہ بھی انہی دعاؤں کے نتیجہ میں آیا ہے۔اب پھر تم خدا تعالیٰ کے حضور سچی دعائیں کر کے دیکھ لو