خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 101 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 101

خطبات محمود 1+1 سال ۱۹۳۶ء ہے، صدقہ ہے اور اور بھی بہت سے اعمال ہیں جو خدا تعالیٰ نے انسان کی بہتری کیلئے دیئے اور ہمیں ان سے مالا مال کیا۔مگر کوئی عمل ایسا نہیں جو سب کو ایک مقام پر لے آئے اور حقیقی مساوا قائم کر کے دکھلائے سوائے نیک ارادہ یا دعا کے یا مذہبی نقطہ نگاہ سے یہ کہو کہ سوائے ایمان اور دعا کے۔کیونکہ اسی چیز کا نام مذہبی اصطلاح میں ایمان بن جاتا ہے جسے دنیوی اصطلاح میں نیک ارادہ کہتے ہیں۔قوت ارادی جب خدا تعالیٰ کے تابع ہو جائے تو وہ ایمان بن جاتی ہے لیکن جب آزاد ہو تو صرف ارادی قوت کہلاتی ہے جیسے خواہش جب انسان کے تابع ہو تو محض خواہش کہلاتی ہے لیکن جب خدا تعالیٰ کے تابع ہو تو دعا کہلاتی ہے۔یہ دو چیزیں مل کر دنیا میں عظیم الشان تغییر کرسکتی ہیں، یہ زمین و آسمان کو ہلا سکتی ہیں۔دنیا دار لوگوں نے اس قوت سے کام لیا اور اس کا نام انہوں نے مسمریزم، ہپنا ٹزم اور میجک (MAGIC) رکھا اور اس کیلئے انہوں نے بڑی بڑی مشقیں کیں مگر وہ سب دنیوی چیزیں ہیں اور حقارت کے قابل ہیں لیکن جس وقت یہ چیزیں خدا تعالیٰ کے دین کے رنگ میں رنگین ہو جاتی ہیں انہیں ایمان اور دعا کہتے ہیں اور ان سے کار ہائے نمایاں سرانجام دیئے جا سکتے ہیں۔علم توجہ کیا ہے؟ وہ محض چند کھیلوں کا نام ہے لیکن دعا وہ ہتھیار ہے جو زمین و آسمان کو بدل دیتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ابھی دعوی نہیں کیا تھا صرف براہین احمدیہ کھی تھی کہ اس کی صوفیاء وعلماء میں بہت شہرت ہوئی۔پیر منظور محمد صاحب اور پیر افتخار احمد صاحب کے والد صوفی احمد جان صاحب اُس زمانہ کے نہایت ہی خدا رسیدہ بزرگوں میں سے تھے۔جب انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا اشتہار پڑھا تو آپ سے خط و کتابت شروع کر دی اور خواہش ظاہر کی کہ اگر کبھی لدھیانہ تشریف لائیں تو مجھے پہلے سے اطلاع دیں۔اتفاقاً انہیں دنوں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو لدھیانہ جانے کا موقع ملا۔صوفی احمد جان صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی دعوت کی۔دعوت کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ السلام ان کے گھر سے واپس تشریف لا رہے تھے کہ صوفی احمد جان صاحب بھی ساتھ چل پڑے۔وہ رتر چھتر والوں کے مرید تھے اور ماضی قریب میں رتر چھتر والے ہندوستان کے صوفیاء میں بہت بڑی حیثیت رکھتے تھے اور تمام علاقہ میں مشہور تھے۔علاوہ زُہد و اتقاء کے انہیں علم توجہ میں اس قدر ملکہ حاصل تھا کہ جب وہ نماز