خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 764 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 764

خطبات محمود ۷۶۴ سال ۱۹۳۶ پر روپیہ خرچ کرتا ہے، خاوند اس سے محبت اور پیار کرتا ہے اور خاوند اس کی تکلیف میں کام آتا ہے۔پس بیوی اپنے آپ کو نو کر نہیں سمجھتی بلکہ وہ کہتی ہے کہ اگر اپنے تعلق کی ایک قیمت میں ادا کر رہی ہوں تو میرا خاوند بھی اپنے تعلق کی قیمت ادا کر رہا ہے۔یہی اخوت کا تعلق ہوتا ہے جس میں تمام انسان ایک دوسرے کیلئے قربانیاں کرتے ہیں صرف عمل کے دائرہ میں اختلاف ہوتا۔ور نہ ہوتی برا بری ہی ہے۔یہ چیز ہے جسے اسلام قائم کرنا چاہتا ہے اور اس کا ایک ذریعہ تحریک جدید ہے جس میں اپنے ہاتھوں سے کام کرنا ، کھانے میں سادگی ، لباس میں سادگی اور رہائش میں سادگی رکھی گئی ہے اور یہ عارضی چیزیں نہیں بلکہ مستقل چیزیں ہیں اور دوستوں کا فرض ہے کہ جبر سے نہیں بلکہ پیار سے ، محبت سے سمجھا کر ، دلائل دے کر لوگوں کو قائل کریں۔جب یہ باتیں ہماری جماعت کے قلوب میں راسخ ہو جائیں گی تو جب احمدیت کو بادشاہتیں ملیں گی اُس وقت کے بادشاہ بادشاہ بن کر نہیں بلکہ بھائی بن کر حکومت کریں گے اور جہاں جائیں گے لوگ کہیں گے یہ ہمیں اُٹھانے آئے ہیں اور جس جس ملک میں بھی احمدیت پھیلے گی خواہ انگلستان میں پھیلے ، خواہ جرمن میں یہ وہاں کا نقشہ بدل کر رکھ دے گی اور وہ جابر حکومتیں نہیں ہوں گی بلکہ خادم حکومتیں ہوں گی اور دنیا کولوٹنے کیلئے قائم نہیں ہوں گی بلکہ دنیا کو ابھارنے کیلئے قائم ہوں گی اور اس ذریعہ سے پھر اسلام کی شوکت اور اس کی عظمت ظاہر ہوگی۔پس میں اس مطالبہ کی طرف جماعت کو پھر توجہ دلا تا ہوں یہ کوئی معمولی کام نہیں بلکہ نہایت ہی اہم ہے۔دوستوں کو چاہئے کہ وہ اس کی طرف خاص توجہ کریں اور اپنے اخلاق کو ایسی طرز پر ڈھالیں کہ وہ نہ صرف ان کیلئے بلکہ ان کے تمام بھائیوں کیلئے رضائے الہی کا موجب ، سکھ کا موجب، عزت کا موجب اور نیک نامی کا موجب ہوں۔( الفضل ۲۲ / دسمبر ۱۹۳۶ء) طه: ۱۳۲ القصص : ۲۵ الضحى: ۱۲