خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 75 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 75

خطبات محمود ۷۵ سال ۱۹۳۶ء آیا وہ ان پر عمل نہ کرنے کے لحاظ سے مجرم ہیں یا نہیں؟ اسی طرح محلوں کے پریذیڈنٹ ان خطبات کو سامنے رکھ کر دیکھیں کہ آیا وہ مجرم ہیں یا نہیں ؟ ۱۴ ماہ اس تحریک کو ہو گئے مگر کیا ناظروں ، محلہ کے پریذیڈنٹوں اور دوسرے کارکنوں نے ذرا بھی اُس روح سے کام لیا جو میں ان کے اندر پیدا کرنا چاہتا تھا۔اگر وہ میرے ساتھ تعاون کرتے تو پیچھلے سال ہی اتنا عظیم الشان تغیر ہو جاتا کہ جماعت کی حالت بدل جاتی اور دشمن مرعوب ہو جا تا مگر چونکہ وہ اس رنگ میں رنگین نہیں ہوئے جس رنگ میں میں انہیں رنگین کرنا چاہتا تھا اس لئے عملی طور پر انہوں نے وہ نمونہ نہیں دکھایا جو انہیں دکھانا چاہئے تھا۔ان کی مثال بدر کے ان گھوڑوں کی سی نہیں جن کے متعلق ایک کافر نے کہا تھا کہ ان گھوڑوں پر آدمی نہیں موتیں سوار ہیں ہے۔بلکہ ان کی مثال حنین کے ان گھوڑوں کی سی ہے جنہیں سوار میدانِ جنگ کی طرف موڑتے مگر وہ ملکہ کی طرف بھاگتے تھے ھے۔پس میں بریکاری کو دور کرنے کی طرف پھر جماعت کو توجہ دلاتا ہوں اور تمام کارکنوں کو خواہ وہ ناظر ہوں یا افسر ، کلرک ہوں یا چپڑاسی، پریذیڈنٹ ہوں یا سیکرٹری توجہ دلاتا ہوں کہ اس روح کو اپنے اندر پیدا کرو۔کیا فائدہ اس بات کا کہ تم نے چار سو یا تین سو یا دو سو یا ایک سو ، یا ساٹھ یا پچاس روپیہ چندہ میں دے دیا، اگر تمہارے اندروہ روح پیدا نہیں ہوئی جو ترقی کرنے والی قوموں کی کیلئے ضروری ہوتی ہے۔ہم اگر پچاس روپے کا بیج خریدتے ہیں جسے گھن لگا ہوا ہے تو وہ سب ضائع ہے لیکن اگر ہم ایک روپیہ کا پیج خریدتے ہیں اور وہ تازہ اور عمدہ ہے تو وہ پچاس روپوں کے بیج سے اچھا ہے۔اسی طرح صرف روپیہ کوئی فائدہ نہیں دے سکتا جب تک وہ ایثار ، وہ قربانی ، وہ تعاون اور وہ محبت واخوت کی روح پیدا نہیں ہوتی جو جماعت کو یکجان و دو قالب “ بنادیتی ہے۔اگر خلافت کے کوئی معنے ہیں تو پھر خلیفہ ہی ایک ایسا وجود ہے جو ساری جماعت میں ہونا چاہئے اور اُس کے منہ سے جو لفظ نکلے وہی ساری جماعت کے خیالات اور افکار پر حاوی ہونا چاہئے ، وہی اوڑھنا، وہی بچھونا ہونا چاہئے ، وہی تمہارا ناک، کان ، آنکھ اور زبان ہونا چاہئے۔ہاں تمہیں حق ہے کہ اگر کسی بات میں تم خلیفہ وقت سے اختلاف رکھتے ہو تو اسے پیش کرو۔پھر اگر خلیفہ تمہاری بات مان لے تو وہ اپنی تجویز واپس لے لے گا اور اگر نہ مانے تو پھر تمہارا فرض ہے کہ اُس کی کامل اطاعت کرو ویسی ہی اطاعت جیسے دماغ کی اطاعت اُنگلیاں کرتی ہیں۔دماغ کہتا