خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 742 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 742

خطبات محمود ۷۴۲ سال ۱۹۳۶ کہ اس جگہ اپنے لئے نہ مانگنے میں ہی برکت ہے اور اپنی ضروریات کیلئے خاموش رہنے میں ہی ا اللہ تعالیٰ کی رضا ہے۔پس میرے دل میں تحریک پیدا ہوئی کہ آؤ دو دن ہم ایسے مقرر کریں جن میں سوائے ایک مشترکہ دعا کے اور کوئی دعا نہ مانگی جائے۔مثلاً آج کی رات ہماری جماعت کے تمام افراد صرف ایک ہی دعا مانگیں اور وہ یہ کہ الہی ! تیرا عفو تام اور تو بہ نصوح ہمیں میسر ہوا اور نہ صرف ہمیں میسر ہو بلکہ ہمارے خاندان کو ، ہمارے ہمسایوں کو ، ہمارے دوستوں کو ، ہمارے عزیز رشتہ داروں کو اور ہماری تمام جماعت کو یہ نعمت میسر آجائے۔خدایا! ہم تیرے عاجز و خطا کار اور گناہگار بندے ہیں ہم سخت کمزور اور نا تو اں ہیں جن جالوں اور پھندوں میں ہم نے اپنے آپ کو پھنسا رکھا ہے ان میں سے نکلنے کی کوئی راہ نہیں اور ہماری نجات کی کوئی صورت نہیں سوائے اس کے کہ تیرا عفو تام ہم پر چھا جائے اور آئندہ کیلئے وہ تو بہ نصوح ہمیں حاصل ہو جائے جس کے بعد ذلت اور تنزل نہیں ہے۔جس طرح حضرت یونس علیہ السلام نے ایک ہی دعا مانگی تھی اور کہا تھا کہ خدایا ! تیرا عذاب ہم سے مل جائے اسی طرح ہم بھی صرف ایک ہی دعا مانگیں اور نہ صرف اپنے لئے اور اپنے عزیزوں اور اہل و عیال کیلئے بلکہ ساری جماعت کیلئے۔اور یہ ضروری نہیں کہ یہی فقرات اختیار کئے جائیں بلکہ اپنے اپنے رنگ اور جوش کے مطابق اپنی اپنی خطاؤں کو یاد کر کے ، دنیا کی خرابیوں اور کمزوریوں کو یاد کر کے کہیں کہ الہی ! ہم تیرے خطا کار اور گناہگار بندے ہیں تیری بخشش کے سوا ہمارے لئے کوئی ٹھکانا نہیں۔ہمارے گزشتہ گناہوں نے ہمیں آئندہ کی نیکیوں سے محروم کر رکھا ہے تو اپنا عفو ہمیں عطا کر اور ہمیں تو بہ کی سچی توفیق عطا فرما۔وہ تو بہ کہ جس کے بعد انسان کو کوئی ذلت نہیں پہنچ سکتی اور نہ وہ اللہ تعالیٰ کی محبت کے مقام سے نیچے گر سکتا ہے۔میں سمجھتا ہوں اس گڑ بڑ کی دعا سے جس میں ایک منٹ میں تو یہ کہا جاتا ہے کہ خدایا! میرے گناہ معاف کر اور دوسرے منٹ میں یہ کہا جاتا ہے کہ میری تنخواہ دس سے گیارہ روپے ہو جائے دل میں رقت پیدا نہیں ہو سکتی اور نہ وہ سوز اور گداز پیدا ہوتا ہے جس سے دعا قبول ہوتی ہے کیونکہ ان دعاؤں میں سے ایک کا دوسری سے کوئی جوڑ نہیں ہوتا۔وہ ایسی ہی دعا ہوتی ہے جیسے جنازہ پر کھڑے ہو کر کوئی نکاحوں کا اعلان کرے۔میں یہ نہیں کہتا کہ وہ دعائیں نہ مانگو۔تم وہ دعائیں روز ہی مانگا کرتے