خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 724 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 724

خطبات محمود ۷۲۴ سال ۱۹۳۶ صلى الله خدا تعالیٰ اُس کے ہاتھ بن جاتا ہے جن سے وہ پکڑتا ہے، پاؤں بن جاتا ہے جن سے وہ چلتا ہے، زبان بن جاتا ہے جس سے وہ بولتا ہے، آنکھیں بن جاتا ہے جن سے وہ دیکھتا ہے ۵ ، غرضیکہ وہ دنیا میں خدا تعالیٰ کا ظہور اور بروز بن جاتا ہے۔جس طرح بانسری میں سے بجانے والے انسان کی آواز نکلتی ہے اسی طرح خدا تعالیٰ اس کے ذریعہ بولتا اور دیکھتا ہے۔جب اس کی نگاہ کسی چیز کو بُرا دیکھتی ہے تو خدا تعالیٰ بھی اُسے بُرا ہی کر دیتا ہے۔ایسے ہی لوگوں میں سے ایک شخص ایک دفعہ رسول کریم ﷺ کے سامنے کھڑا تھا وہ بالکل کنگال تھا ، اُس کے کپڑے پھٹے ہوئے تھے اور بال پریشان تھے۔اُس کی پھوپھی پر ایک مقدمہ تھا جس کی حرکت سے اتفاقاً کسی کا دانت ٹوٹ گیا تھا۔یہ غریب صحابی دوسرے فریق کی منتیں کر رہا تھا کہ میری پھوپھی نے شرارتاً ایسا نہیں کیا اتفاقاً ایسا ہوا ہے مگر دوسرا فریق مصر تھا کہ نہیں ضرور اُس کی پھوپھی کا دانت توڑا جائے گا۔رسول کریم یہ بھی سمجھتے تھے کہ شرارتاً ایسا نہیں ہوا اس لئے آپ نے بھی سفارش کی مگر دوسرے فریق نے کہا کہ نہیں ہمارا حق ہے جو ہم ضرور لیں گے۔جب انہوں نے آنحضرت ﷺ کی سفارش کو بھی رد کر دیا تو اس صحابی کو جوش آ گیا اور اُس نے کہا خدا کی قسم ! میری پھوپھی کا دانت نہیں تو ڑا جائے گا۔وہ غریب آدمی تھا اِس لئے اُس کا یہ مطلب نہیں تھا کہ میں لڑوں گا اور تمہیں ایسا کرنے سے باز رکھوں گا۔بلکہ اُس کا مطلب یہ تھا کہ میں خدا تعالیٰ سے اپیل کروں گا۔جب اس نے یہ قسم کھائی تو دوسرے فریق کے دل ڈر گئے اور وہی لوگ جنہوں نے رسول کریم ﷺ کی سفارش بھی نہ مانی تھی خود بخود کہنے لگے يَا رَسُولَ اللهِ !ہم نے معاف کر دیا۔رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ خدا کا کوئی بندہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ اُس کے بال بکھرے ہوئے ہوتے ہیں، کپڑے پھٹے ہوئے ہوتے ہیں اور جسم پر مٹی پڑی ہوتی ہے مگر جب وہ خدا تعالیٰ کے نام پر قسم کھا لیتا ہے تو خدا تعالیٰ اسے ضرور پورا کر دیتا ہے "۔یہی مطلب ہے اس کا کہ خدا تعالیٰ نوافل کے ذریعہ بندہ کی زبان بن جاتا ہے، آنکھیں بن جاتا ہے، ہاتھ اور پاؤں بن جاتا ہے یعنی اخلاص کے ساتھ وہ جس طرف لگ جاتا ہے خدا تعالیٰ کے سب فرشتے اسی طرف لگ جاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ وہی ہو جو یہ چاہتا ہے اور یہ مقام نوافل کے ذریعہ ہی حاصل ہوسکتا ہے۔پس میں نے چاہا کہ تمہارے لئے ایسا موقع بہم پہنچاؤں اور ایسی قربانیاں مقرر کروں جو