خطبات محمود (جلد 17) — Page 722
خطبات محمود ۷۲۲ سال ۱۹۳۶ کہ میں نے اپنا پچھلا وعدہ پورا نہیں کیا۔لوگ تو خوش ہو جائیں گے کہ فلاں نے اتنا وعدہ کیا ہے مگر اللہ تعالیٰ تو اس دھوکا بازی کو خوب جانتا ہے اور اسے معلوم ہے کہ اس شخص نے پہلے بھی دھوکا کیا تھا ی اور اب پھر کرتا ہے اس لئے دوستوں کو چاہئے کہ اپنے فرضی چندوں کے بقایوں کی ادائیگی کی طرف بھی توجہ کریں اور اگر ادا نہیں کر سکے تو دل میں ان کو ادا کرنے کا پختہ اقرار تو کر لیں اور کوئی کی ایسا طریق مقرر کر لیں جس سے ادا کر سکیں۔مثلاً کوئی قسط مقرر کر لیں اور اس کے بعد تحریک جدید کی طرف توجہ کریں ورنہ تحریک جدید کا وعدہ اُن کی ترقی کا نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کی ناراضگی کا موجب ہوگا۔اگر دوست یہ دونوں باتیں کریں یعنی مؤمن اور مخلص لوگ دلوں سے بغض نکال کر باہم محبت پیدا کریں اور بقائے ادا کریں اور پھر تحریک جدید میں حصہ لے سکیں تو لیں بلکہ اگر توفیق ہو تو تحریک جدید میں حصہ لینا بھی ضروری سمجھیں تو پھر ترقیات کے دروازے ان پر کھل سکتے ہیں۔تحریک جدید میں حصہ لینا اگر چہ میں نے اختیاری رکھا ہے مگر اس کے یہ معنے نہیں کہ اس کی میں حصہ لینے سے کوتاہی کی جاسکتی ہے یہ تحریک تو اختیاری تو میں نے اس لئے رکھی ہے کہ انسان کو زیادہ ثواب انہی تحریکوں میں حصہ لینے سے ہوتا ہے جو خو دا ختیاری ہوں۔حکم کو تو منافق بھی مان لیتا ہے، ماہواری چندوں میں تو منافق بھی شامل ہوتے ہیں بلکہ ضرور ہوتے ہیں کیونکہ بمصداق ”چور کی داڑھی میں تنکا وہ جانتے ہیں کہ اگر ہم نے سُستی کی تو ہمارا پول کھل جائے گا کمزور مخلص تو بعض دفعہ کو تا ہی کر جائے گا مگر منافق نہیں کرے گا وہ ضرور کوشش کرے گا کہ یہ کلنک کا ٹیکا اسے نہ لگے ورنہ وہ بالکل ننگا ہو جائے گا مگر خود اختیاری تحریکوں میں آکر اس کا بھید کھل جاتا ہے کیونکہ وہ سمجھتا ہے ان میں حصہ لینا ضروری تو نہیں ہے پس اس میں مخلص کے اخلاص کے اظہار کا زیادہ موقع ہوتا ہے۔ایک بات اور بھی یادرکھنی چاہئے کہ جو شخص ہر نیکی اس لئے کرتا ہے کہ اسے جنت ملے گی وہ اعلیٰ درجہ کا مؤمن نہیں ہے۔مؤمن تو وہ ضرور ہے اور رسول کریم ﷺ کی شہادت ہے کہ وہ مؤمن ہے۔چنانچہ ایک دفعہ ایک شخص رسول کریم ﷺ کے پاس آیا اور دریافت کیا۔کیا آپ کو خدا نے کہا ہے کہ پانچ نمازیں پڑھی جائیں؟ آپ نے فرمایا ہاں ، پھر اس نے کہا کیا خدا تعالیٰ نے آپ کو حکم دیا ہے کہ تمیں روزے رکھے جائیں؟ آپ نے فرمایا ہاں ، پھر اس نے کہا کیا آپ کو