خطبات محمود (جلد 17) — Page 712
خطبات محمود ۷۱۲ سال ۱۹۳۶ گے خدا تعالی بڑی قربانیوں کیلئے تو فیق عطا فرمائے گا اور وہ خدا کے بڑے ہو جائیں گے جس طرح یسوع اور موسیٰ اور داؤد اور سلیمان اور اور ہزاروں کامل بندے خدا کے بڑے قرار پائے اور کی انہوں نے خدا کی محبت کی چھری کو خوشی سے اپنی گردن پر پھر والیا۔دنیا کی تمام شوکتیں اُن کے پاؤں پر قربان ہیں، دنیا کی تمام عزتیں اُن کی خدمت پر قربان ہیں ، دنیا کی تمام بادشاہتیں اُن کی غلامی پر قربان ہیں، وہ خدا کے ہیں اور خدا ان کا ہے۔آج ایک زندہ اور باجبروت اور قاہر اور خبر دار اور منتظم بادشاہ کو گالی دے کر ایک انسان سزا سے بچ سکتا ہے، اُس کی گرفت سے بھاگ سکتا ؟ ہے لیکن یہ لوگ جو انسانوں جیسے انسان تھے اوّل تو فقیری میں انہوں نے عمر گزار دی اور اگر بعض بادشاہ بھی ہوئے تو ان کی بادشاہتیں اپنی دُنیوی عظمت کے لحاظ سے بہت سے دُنیوی بادشاہوں سے کم تھیں لیکن آج جبکہ وہ منوں مٹی کے نیچے دفن ہوئے ہیں اور بعض کی نسلوں کا بھی کوئی پتہ نہیں ہے اور بعض کی اُمتیں بھی مٹ چکی ہیں کوئی زبر دست سے زبر دست بادشاہ بھی بے ادبی سے ان کا نام لے تو وہ ذلت اور رسوائی سے بچ نہیں سکتا کیونکہ خدا میں محو ہو جانے کی وجہ سے خدا کی بادشاہت میں ان کی بادشاہت شامل ہے اور جس طرح خدا کی بادشاہت کبھی فنانہیں ہوتی اُن کی بادشاہت بھی کبھی فنانہیں ہوسکتی۔میں نے کہا تھا کہ یہ خدا کے بڑے ہیں میں نے اس سے اس طرف اشارہ کیا تھا کہ جس طرح ایک بکری کا گوشت اُس کے ذبح ہو جانے کے بعد انسان کی غذا بن کر انسان ہو جاتا ہے اسی طرح لوگ خدا کے بڑے بن کر قربان ہو جاتے ہیں وہ بھی خدا میں شامل ہو جاتے ہیں اور ابدی از لی بادشاہت ان کو عطا کی جاتی ہے۔شاید کسی کے دل میں یہ خیال گزرے کہ ابدی بادشاہت تو سمجھ میں آسکتی ہے مگر از لی بادشاہت انہیں کس طرح حاصل ہوتی ہے کیونکہ جب وہ ابھی پیدا بھی نہ ہوئے تھے اور ان کو کوئی جانتا بھی نہ تھا تو انہیں بادشاہت کیونکر حاصل ہوئی۔ایسے لوگوں کو یاد رکھنا چاہئے کہ رسول کریم ﷺ نے ایک موقع پر فرمایا کہ میں خاتم النبین تھا جبکہ آدم ابھی مٹی اور پانی میں ہی چھپا ہوا تھا سکے۔رسول کریم ﷺ نے اس حدیث میں یہی حکمت بیان فرمائی ہے کہ جو شخص خدا میں ہو جاتا ہے اُس کو از لی بادشاہت بھی عطا ہو جاتی ہے اور اس کا ظاہری نشان یہ ہوتا ہے کہ اُس کے آباء و اجداد کو خدا تعالیٰ کی طرف سے ہمیشہ حفاظت ملتی چلی آتی ہے جس طرف